حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 155
حقائق الفرقان ۱۵۵ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ صورت میں قرآن کی اس امید بھری آیت سے وَ أَخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَ أَخَرَ سَيْئًا ۖ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ - (التوبة: ١٠٢) امید ہے کہ خداوندی رحم اس کے غضب پر سبقت لے جاوے اور اس کا فضل بچالے۔الا یہی فضل کبھی کسی شفیع کو اپنے پہنچنے کیلئے ذریعہ بنالیتا ہے۔اہلِ اسلام میں بے اذن شفاعت ثابت نہیں۔اور جب اذن سے شفاعت ہوئی۔تو وہ شفاعت حقیقت میں فضل ہو گیا۔یہی فضل نجات کا باعث ہے اور اس بالا ذن شفاعت کا ثبوت جسے خدا کے رحم اور فضل نے گنہگار کے بچانے کیلئے تحریک دی۔قرآن میں یہ ہے۔وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا - (النساء : ۶۵) یا درکھو جب نیک اعمال کثرت سے نہیں ہوتے۔اور ایمانی قوت کا قوی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اس وقت بڑے فضل کو یہ چھوٹا سا ایمان نہیں کھینچ سکتا اور فضل لینے سے سبب میں کمزوری ہوتی ہے اس لئے باری تعالیٰ کا رحم اور کرم چھوٹے سے ایمان کے ساتھ کسی شفیع کی شفاعت اور داعیوں کی دعا کو ملا دیتا ہے اور اسی کمزور ایمان کو اس ذریعہ سے قوت دیکر فضل کے لائق بنادیتا ہے۔بلکہ صرف ایمان ہی ابدی سزا سے بچانے کیلئے اس فضل کو لے لیتا ہے۔جس کے ساتھ انسان دوزخ کی ابدی سزا سے بچ جاوے۔پادری صاحب ! پولوس بھی کیا کہتا ہے۔پھر اگر فضل سے ہے تو اعمال سے نہیں نہیں تو فضل فضل نہ رہے گا اور اگر اعمال سے ہے تو پھر فضل کچھ نہیں نہیں تو عمل عمل نہ رہے گا۔نامہ رومیاں ا باب ۶۔لے اور بعضے لوگوں نے مان لیا اپنا گناہ۔ملا یا ایک کام نیک اور دوسرا بد۔شاید اللہ معاف کرے ان کو۔بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔۲۔اور ان لوگوں نے جس وقت اپنا برا کیا تھا اگر آتے تیرے پاس پھر اللہ سے بخشواتے اور بخشوا تا ان کو رسول۔تو اللہ کو پاتے معاف کرنے والا مہربان۔اعمال ، ایمان ، گناہ ، ثواب ، فضل ان سب اصطلاحات کی نسبت حکیمانہ طور پر ہمارا خیال کچھ کیوں نہ ہو اور ہم عیسائی مفہوم اور مذاق سے بالکل الگ کیوں نہ ہولیکن بہر حال ان اصطلاحات کا اطلاق مخاطبین ہی کے مذاق کے موافق ہم کیے جاتے ہیں کیونکہ ہماری اس کتاب کا موضوع و منشاء بھی یہی ہے۔