حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 154 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 154

حقائق الفرقان ۱۵۴ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ اس زانی کے ایمان نے آ کر اسے زنا سے روک دیا۔اب یہ شخص با ایں کہ مال خرچ کر چکا ہے یا ثانی کی رضامندی پاچکا۔صرف ایمان کے باعث ہاں صرف ایمان ہی کے باعث اور خدا کے خوف سے باہمہ وسعت و طاقت اس بڑی برائی کے ارتکاب سے ہٹ گیا اور اسکا مرتکب نہ ہوا۔تو صرف اسی اجتناب سے اس کی ابتدائی کارروائیاں جو حقیقت میں مبادی گناہ اور گناہ کی محرک تھیں معاف ہو جائیں گی۔کیونکہ اس کا ایمان بڑا تھا۔جس نے آخری حالت میں خدا کے فضل سے دستگیری کی۔اور تیسری قسم گناہ کی صغائر ہیں۔جن کا ذکر کبائر میں ضمناً آ گیا۔ناظرین!انجات صرف رحم اور فضل سے ہے اور رحم اور فضل کا مستحق ایماندار ہے۔اِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ - (الاعراف: ۵۷) اور ایمان کے پھل نیک اعمال ہیں۔پس کل اعمال یا اکثر اعمال اگر عمدہ ہیں تو معلوم ہوا کہ اُن عمدہ اعمال کے عامل کا ایمان بڑا اور قوی تھا۔جب ایمان بڑا اور قوی ہوا۔تو بہت بڑے فضل کا جاذب ہو گا اور اگر نیک اعمال کے ساتھ تیسری قسم کے چھوٹے بد اعمال یا چھوٹے بڑے دونوں قسم کے بُرے اعمال مل گئے تو ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے ایمان میں بمد مقابل کچھ کفر بھی ہے۔جس کے بد ثمرات یہ معاصی چھوٹے اور بڑے ہیں۔کیونکہ ایمان کا پھل تو یہ بداعمال ہو نہیں سکتے۔پھر لامحالہ کفر سے یہ ثمرات ہوں گے۔گو وہ چھوٹا ہی کفر کیوں نہ ہو۔اور کفر فضل کا جاذب نہیں۔بلکہ فضل کو روکتا ہے۔جیسے اندھیری کوٹھڑی کی دیوار میں اور چھت سورج کی روشنی کو روکتی ہیں۔پس ایسے شخص میں ضرور جنت اور نجات کے اسباب اور فضل کے کھینچنے اور لینے کے ذریعے دوزخ میں جانے کے اسباب اور بہشت و نجات میں جانے کی روکیں مل جائیں گی۔اس لئے ایک میزان کی ضرورت پڑی۔مگر یہ میزان دکانداروں کی ترازو سے یا ریلوے والوں کی ماپ تول سے نرالی ہے۔دیکھو سموئیل ۲ باب ۳۔یہ تراز و خدا کے عدل اور قدوسیت کی ترازو ہے۔نیک اعمال کی زیادتی میں ایمان کی قوت ظاہر ہے اس لئے وہ ایمان بڑے فضل کا لینے والا ہوا۔اور مساوات اور کمی کی لے بے شک مہر اللہ کی نزدیک ہے نیکی والوں سے۔