حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 153
۱۵۳ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ حقائق الفرقان قرآن بیان کرتا ہے۔گناہ تین قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل شرک۔دوم کبائر۔سوم صغائر۔شرک کی نسبت قرآن کریم فیصلہ دیتا ہے کہ وہ ہرگز بدوں تو بہ معاف نہ ہوگا۔اس کی سزا بھگتنی ضرور ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ (النساء : ۱۱۷) انجیل بھی با ایں کہ بڑی بشارت اور بشیر ہے۔فرماتی ہے متی ۱۲ باب ۳۱۔روح کے خلاف کا کفر معاف نہ ہوگا۔دوسری قسم گناہوں کی وہ کبائر اور بڑے بڑے گناہ جو شرک کے نیچے ہیں اور صغائر یا مبادی کبائر سے اوپر اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ ہر ایک کبیرہ اور بڑے گناہ کی ابتدا میں چھوٹے چھوٹے گناہ جواس کبیرہ سے کم ہیں ہوتے ہیں مثلاً جو شخص زنا کا مرتکب ہوا۔ضرور ہے کہ ارتکاب زنا سے پہلے وہ اس نظر بازی کا مرتکب ہو جس سے زنا کے ارتکاب تک نوبت پہنچی۔یا ابتداء وہ باتیں سنیں جن کے باعث اس بدکاری کے ارتکاب تک اس زنا کنندہ کی نوبت پہنچی۔ایسے ہی ان باتوں کا ارتکاب جن کے وسیلے سے اس کو وہ شخص ملا۔جس سے زانی نے زنا کیا اور بالکل ظاہر ہے کہ ان ابتدائی کارروائیوں کی برائی زنا کی برائی سے ضرور کمی پر ہے۔ایسے کہائر اور بڑے گناہوں کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے۔إن تَجْتَنِبُوا كَبَابِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ۔(النساء:۳۲) کیا معنی؟ جن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے تم لوگ منع کئے گئے۔اگر ان بڑے گناہوں سے بچ رہو تو ان کے مبادی اور ان کے حصول کی ابتدائی کارروائی صرف ان بڑے گناہوں سے بچ رہنے کے باعث معاف ہو سکتی ہے۔مثلاً کسی شخص نے کسی ایسی عورت سے جماع کرنا چاہا جو اس کے نکاح میں نہیں اور اس عورت کے بلانے پر کسی کو ترغیب دی یا کچھ مال خرچ کیا۔اور اُسے خالی مکان میں لا یا اور اسے دیکھا۔بلکہ اس کا بوسہ بھی لے لیا۔لیکن جب وہ دونوں برضا و رغبت برائی کے مرتکب ہونے لگے اور کوئی چیز روک اور بدکاری کی مانع وہاں نہ رہی اور اس بد کارروائی کا آخری بد نتیجہ بھی ظاہر نہ ہوا تھا کہ لے اللہ یہ نہیں بخشا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے بخشتا ہے۔ے اگر تم بچتے رہو گے بری چیزوں سے جو تم کو منع ہو ئیں تو ہم اتار دیں گے تم سے تقصیریں تمہاری۔