حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 152
حقائق الفرقان ۱۵۲ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ ایک عیسائی کے اعتراض کہ انسان کی نجات قیامت کے روز کیونکر ہوگی۔حسنِ عمل سے یا شفاعت شفیع سے یا دونوں سے“ کے جواب میں تحریر فرمایا۔مخلوق کی نجات کا مدار ایسا تنگ اور محدود نہیں جو پادریوں نے بیان کیا۔کیا خدائی ارادے محدود ہیں؟ کیا اس بے حد ہستی کے کام کسی مخلوق کے خیال اور وہم پر موقوف ہیں؟ بندگانِ خدا کی نجات قیامت کے روز محض باری تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوگی اور صرف اس کے رحم اور غریب نوازی سے ہم نجات پائیں گے اگر اعمال وغیرہ سے نجات ہے تو فضل کچھ بھی نہیں ناظرین یقین کرو کہ فضل و کرم خداوندی سے نجات ہے اور یہی فضل و کرم اسلام میں نجات کا باعث ہے دیکھو سورہ دخان۔اس میں اہل جنت کے انعامات کا ذکر ہوتے ہوتے بتایا ہے کہ جنت میں جانے والے دوزخ سے اللہ کے فضل سے بچے۔وَوَقْهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ـ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ - (الدخان: ۵۸،۵۷) اور سورہ حدید میں ہے۔سَابِقُوا إلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ امَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ (الحديد: ۲۲) وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِينَ وَ الصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًا ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللهِ - عَلِيمًا۔(النساء: ۷۱،۷۰) ے اور بچایا ان کو دوزخ کی مار سے فضل سے تیرے رب کے۔۲؎ دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف اور بہشت کو جس کا پھیلاؤ ہے جیسے پھیلاؤ آسمان اور زمین کا رکھی گئی ہے ان کے واسطے جو یقین لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔یہ بڑائی اللہ کی ہے دیوے اس کو جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے۔سے اور جولوگ چلتے ہیں حکم میں اللہ کے اور رسول کے سودے ان کے ساتھ ہیں جن کو اللہ نے نوازا۔نبی اور صدیق اور شہید اور نیک بخت اور خوب ہے ان کی رفاقت۔یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ بس بے خبر رکھنے والا۔