حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 151

حقائق الفرقان ۱۵۱ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ شفاعت کی حقیقت سمجھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ لفظ شفع سے نکلا ہے۔اور مندرجہ ذیل لے إن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيم - (آل عمران: ۳۲) آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع انسان کے گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔حضور انور کی ذات ستودہ صفات ایک نور ہے۔جو اس نور سے تعلق پیدا کرتا ہے۔اس سے ظلمات دور ہوتی ہیں۔یہ شفاعت ہے۔مجرموں کی جنبہ بازی کا نام شفاعت نہیں جیسا کہ بعض نادانوں نے غلطی سے سمجھا ہے اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔تشخیز الاذہان جلدے نمبر ۳۔ماہ مارچ ۱۹۱۲ ء صفحہ ۱۳۶۔۱۳۷) مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ۔جو آجکل حق کی گواہی دے رہا ہے یعنی محمد رسول اللہ۔جسے کفار تک جانتے ہیں بعض مسلمان جو شفاعت کے منکر ہیں ان پہ افسوس۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۱) ” میں اپنے فن طبابت میں دیکھتا ہوں کہ میری کوشش کی سپارش ، میری دی ہوئی دواؤں کی سپارش کہیں منظور ہے اور کہیں نا منظور۔اسی طرح سائنس دانوں کی سپارشیں کہیں منظور ہیں کہیں نامنظور۔بادشاہوں کے وزراء، امراء سپہ سالاروں کی سپارشیں کہیں منظور ہیں کہیں نامنظور۔دعا ئمیں کہیں کامیاب کر کے شکر کے انعامات کا موجب ہوتی ہیں اور کہیں نا کامی سے صبر کے انعامات دلاتی ہیں۔پس اس قاعدہ کے مطابق بعضوں کے حق میں لکھا ہے کہ ان کے لئے سپارش نامنظور ہے اور بعض کے لئے سپارش منظور ہے۔اسی طرح بعض کی سپارش منظور اور بعض کی نا منظور۔سپارش اور گناہ کا یہ تعلق ہے کہ گناہ اخذ کا موجب ہے۔اور سپارش کنندہ کی سپارش اس کے نیک اعمال کے باعث النبی عفو (کھما) کو حاصل کر کے ایک قسم کے گناہ گار کیلئے تو کھما کا موجب ہوتی ہے اور سپارش کنندہ کے واسطے باعث اعزاز و امتیاز۔شفاعت ایک دعا بلکہ دعا سے بڑھ کر ایک درجہ کی پرارتھنا ہے۔پس اس پر انکار کیا؟ ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۴۱، ۱۴۲) کای لے (اے محمد) تم ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے محبوب بنا چاہتے ہو (جیسا کہ میں اللہ کا محبوب بنا ہوں ) تو تم میرے چال چلو پوری پوری تو تم بھی اللہ کے محبوب بن جاؤ گے اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اللہ غفور الرحیم ہے۔