حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 6
حقائق الفرقان سُوْرَةُ فَاطِرٍ وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ (فاطر: ۲۵)۔فائدہ۔اسلامی عقائد میں یہ امر ضروری التسلیم ہے کہ سب انبیاء ورسل پر ایمان لایا جاوے جو قوموں کے نذیر گزرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اور رسول ہو کر آئے۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۲۷) کل دنیا میں مندرین کا آنا تسلیم فرمایا۔اور انصاف سے مذاہب پر کلی انکار نہیں کیا بلکہ تمام انبیاء ورسل پر یقین کرنا اور ان پر ایمان لا نا سکھایا اور فرمایا۔وَ إِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ - تمام امتوں میں نافرمانوں کو ڈر سنانے والے گزر چکے ہیں۔( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۳۷) یہ ایک ضروری بات ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر قصص مذکور ہوئے ہیں اُن نبیوں کے ہیں جہاں جہاں نبی کریم نے اور آپ کے صحابہ کرام نے پہنچنا تھا۔اور یہ بات ایسی خصوصیات کے لئے ہے ورنہ قرآن کریم تو صاف فرما تا ہے وَ إِنْ مِّنْ أمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذیر یعنی کوئی امت ایسی نہیں جس میں خدا کی طرف سے ایک ڈرانے والا نہ آیا ہو۔ایک طرف تو یہ حال ہے کہ کوئی قوم اور کوئی بستی نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا مامور نہ آیا ہو۔دوسری طرف بہت سے ایسے رسول بھی ہو گزرے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں فرما یا تو ایک غور طلب بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم انبیاء علیہم السلام کے ذکر کو نہیں اور تیں کے اندر محدود کرتا ہے۔مجھے یہ بات بتلائی گئی ہے کہ ان ہی نبیوں کا ذکر قرآن نے فرمایا ہے جن کے بلا د میں نافرمانوں اور فرماں برداروں کے نشانات صحابہ کرام کیلئے موجود ہیں اور جہاں پیغمبر خدا نے کامیابی حاصل کرنی تھی۔اور صحابہ کرام نے دیکھ لینا تھا۔لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيْنَةٍ وَ يَعْنِي مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ - (الانفال: ۴۳) صحابہ وہاں پر پہونچے۔ان کا لے اور کوئی فرقہ نہیں جس میں نہیں ہوچکا کوئی ڈرانے والا ہے وہی مرے جو مرتا ہے دلیل سے اور وہی زندہ رہے جو زندہ رہتا ہے دلیل سے۔