حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 146

حقائق الفرقان ۱۴۶ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ وَلَا يَكَادُ يُبين بولنا بھی نہیں جانتا۔بات بھی نہیں کر سکتا۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۰) متقیوں کے مقابلہ میں بڑے بڑے بادشاہ بار یک در بار یک تدبیریں کرنے والے ، مال خرچ کرنے والے، جتھوں والے آئے۔مگر وہ بھی ان متقیوں کے سامنے ذلیل وخوار ہوئے۔فرعون کی نسبت قرآن مجید میں مفصل ذکر ہے۔حضرت موسیٰ کے بارہ میں کہا۔هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ایک ذلیل (اور بینا ) آدمی ہے۔میرے سامنے بات بھی نہیں کر سکتا۔اور اس کی قوم کو غلام بنا رکھا مگر دیکھو آخر اس طاقتوں والے ، شان وشوکت والے ، جاہ وجلال ( بدر جلد نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه (۸) والے فرعون کا کیا حال ہوا۔یہ غلط خیال ہے کہ نبیوں نے اس وقت مقابلہ کیا جب ان کا جتھا ہو گیا۔۔۔۔حضرت موسیٰ کیسی حالت میں تھے۔فرعون نے کہا۔هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ۔ان کی تمام قوم غلام تھی مگر دو ایک آواز سے سب کام کروا لیا۔وَاشْدُدُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الاکیم۔(یونس : ۸۹) نبیوں کو۔خدا کے پاک لوگوں کو جتھوں کی کیا پرواہ ہے۔انبیاء کے نزدیک ایسا خیال شرک ہے۔( بدر جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۴ / نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱) فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ سن کر کہا قومهما لنا عبدُونَ (المؤمنون: ۴۸) اس کی قوم تو ވ ވ ہماری غلام رہی ہے۔هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ۔یہ کمینہ ہے اور بولنے کی اس کو مقدرت نہیں۔اور ایسا کہا کہ اگر خدا کی طرف سے آیا ہے تو کیوں اس کو سونے کے کڑے اور خلعت اپنی سرکار سے نہیں الحکم جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۶) ملا۔بلکہ میں بہت اچھا ہوں اس ذلیل سے اور یہ تو صاف صاف بول بھی نہیں سکتا بھلا کیوں نہ ڈالے گئے اس کو سونے کے کنگن۔اور نہ آئے اس کے ساتھ فرشتے پر باندھ کر۔کنگن اس کے زمانہ میں عزت کا نشان تھا جیسے ہندوستان کی ہندور یاستوں میں اب بھی ہے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۶ حاشیہ ) لے اور سخت کر دے اُن کے دل کہ وہ تجھ پر ایمان ہی نہ لائیں جب تک نہ دیکھ لیں ٹمیں دینے والا عذاب۔