حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 143
حقائق الفرقان ۱۴۳ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ ہمارے سید ابن ابراہیم علیہما الصلوۃ والسلام کی نسبت جب آپ کے پہلے مخاطبوں میں سے چند ناسمجھ اور ناعاقبت اندیشوں نے اس قسم کا اعتراض کیا تھا تو وہ دو گروہ تھے۔عرب کے قدیم باشندے اور یہود۔۔۔عربوں کے سوال کو اس طرح نقل فرمایا ہے۔وَقَالُوا لَو لَا نُزِّلَ هُذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف: ٣٢) اور جواب میں فرمایا ہے۔اَهُم يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمُنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَتٍ لِيَتَخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَ رَحْمَتُ رَبَّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (الزخرف:۳۳)۔اس سوال و جواب میں ایک لطیفہ نور کے قابل ہے۔اُمّی، ان پڑھ عربوں نے یہ تو نہ کہا کہ رسول کیوں ہوا؟ اور اللہ تعالیٰ نے کیوں رسول کر کے بھیجا؟ کیونکہ آخر اتنی تو سمجھ رکھتے تھے کہ رسولوں کا آنا، ملہموں کا پیدا ہونا بے وجہ نہیں۔ضرور ان کا بابرکت وجود برکات کا مثمر ہے مگر یہ کہا کہ رسولوں کا آنا بے شک ضروری اور فضل ہے۔پر جن پر دنیوی فضل ہو رہا ہے وہی اس روحانی فضل کے مور د کیوں نہ ہوئے ؟ اگر امیر ہی رسول ہوتے تو بڑی کامیابی ہو جاتی۔پادریو! آریو! کاش تم اتنی عقل رکھتے ! اور جواب سے یہ ظاہر کیا جب دنیوی ترقیات کو دیکھتے ہو کہ بعض ترقی کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئے ہیں اور بعض سخت تنزل میں گرفتار۔پس روحانی معاملات کو دنیا کے حال پر کیوں نہیں قیاس کرتے؟ جیسے لے اور عربوں نے کہا یہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اترا۔قرآن کا نازل ہونا۔قرآن کالا نے والا ہونا تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ دنیا کے گزارے میں یہی تو ہم نے ہی تقسیم کر رکھی ہے اور بعض کو بعض پر مختلف درجوں کے فضائل دے کر عزت بخشی ہے تو کہ ایک دوسرے کے کام آویں۔بادشاہ رعایا کا خادم اور رعایا بادشاہ کی خدمت گزار۔جب ظاہری دنیا و دولت کی تقسیم ان لوگوں کی تجویزوں پر نہیں تو نبوت و رسالت والا تو ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔جس کو یہ لوگ جمع کرتے ہیں کیا اس رحمت و فضل کو یہ لوگ اپنے ناقص عقل پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔