حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 136
حقائق الفرقان ۱۳۶ سُوْرَةُ الشُّورى اور فروگزاشتوں کے خیال سے اپنے آپ کو عذاب میں ڈالو۔بلکہ سچے اسباب کی تلاش کرو اور الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۶ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۶) مشوروں سے کام لو۔٤١ - وَجَزَوُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ ترجمہ۔اور برائی کا بدلہ برائی ویسی۔پھر جو کوئی معاف کر دے اور سنوار کرلے ( یعنی عفو بالا صلاح ہو ) تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے کچھ شک نہیں کہ وہ پسند نہیں کرتا بے جا کام کرنے والوں کو۔تفسیر اور برائی کا بدلہ برائی ویسی ہے۔پھر جو کوئی معاف کرے اور سنوارے سواس کا ثواب فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۵۲ حاشیه ) ہے اللہ کے ذمے۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ۔جس نے در گزر کی اور سنور گیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۳۲ حاشیہ) ۵۲ - وَ مَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلِمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلَى حَكِيمٌ - ترجمہ۔اور کسی بشر کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے ( یعنی رو برو ) مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے ( رؤیا و کشف کے ذریعہ سے) یا کسی رسول و فرشتے کو بھیج دے۔پھر وہ پہنچا دے اللہ کے حکم سے جو اللہ چاہے، بے شک اللہ بڑے مرتبے والا حکمت والا ہے۔تفسیر - أَوْ مِنْ وَرَائِی حِجاب۔مثلاً کوئی نقشہ دکھا یا جاوے۔تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۰) براہمولوگوں کو دیکھو تو خدا تعالیٰ کی بڑی تعریفیں کریں گے مگر خدا تعالیٰ کی اس صفت سے ان کو قطعاً انکار ہے۔جس سے وہ ہدایت نامے دنیا میں بھیجتا اور انسان کو غلطیوں سے بچانے کے لئے رہنمائی کرتا ہے اور نہیں مانتے کہ يُرسل الرَّسُول بھی خدا تعالیٰ کی کوئی صفت ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۶ مورخه ۵ رمئی ۱۸۹۹ صفحه ۴)