حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 135
حقائق الفرقان ۱۳۵ سُوْرَةُ الشَّورى ۳۹۔وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَ أَمْرُهُمْ شُورى 99191 ص بينهم وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ - ترجمہ۔اور جنہوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور نماز کو ٹھیک درست رکھا اور آپس کے مشورہ سے کام کیا اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں۔ص تفسیر۔اور ایمان والے وہ جنہوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور درست رکھی نماز اور ان کی حکومت ہے مشورے سے آپس میں۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۵۶ حاشیه ) أَمْرُهُمْ شُوراى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔اور ان کی حکومت با ہمی مشورہ سے ہوتی اور کچھ ہمارا د یا خرچ کرتے ہیں۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائزڈ ایڈ یشن صفحہ ۲۲۴) ہندوستان میں بارہ ریاستیں ہمارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہوگئی ہیں۔کئی معزز گھرانے مرتد اور بے دین ہو گئے ہیں۔اسلام پر اعتراضات کا آرا چلتا ہے۔مگر کسی کو گھبر انہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ لوگ اپنے اپنے نفسانی ہم وحزن میں مبتلا ہیں اور سچے اسباب اور ذرائع ترقی کی تلاش سے محروم و بے نصیب ہیں۔پس دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عجز سے بچاوے اور بقدر فہم و فراست تہیہ اسباب کرنا ضروری ہے اور پھر اس کے ساتھ مشورہ کرنا چاہیے۔قرآن شریف کا رورو و حکم ہے کہ آمُرُهُم شُوری بَيْنَهُم - مشورہ کرنا ایسا پاک اصول ہے کہ اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور برکت عطا ہوتی ہے اور انسان کو ندامت نہیں ہوتی مگر خود پسندی اور کہر ایسی امراض ہیں کہ انہوں نے شیطان اور انسان دونوں کو ہلاک کر دیا ہے۔دیکھو ہر انسان ایسی پختہ عقل اور فہم رسا کہاں رکھتا ہے کہ خود بخودا اپنی عقل سے ہی ساری تدا بیر کر لے۔اور کامیاب ہو جاوے۔یہ ہر ایک انسان کا کام نہیں۔اسی واسطے مشورہ کرنا ضروری رکھا گیا۔ناتجربہ کار تو نا تجربہ کارہی ہے۔مگر اکثر اوقات بڑے بڑے تجربہ کار بھی مشورہ نہ کرنے کی وجہ سے سخت سے سخت ناکامیوں میں مبتلا ہو کر بڑی بڑی ندامتیں برداشت کرتے ہیں۔پس خود کو موجودہ ناکامیوں کے بہت فکروں میں ہلاک نہ ہونے دو۔اور نہ گزشتہ کاہلیوں