حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 134
حقائق الفرقان ۱۳۴ سُورَةُ السُّورى ۳۴ إِن يَشَأْ يُسْكِنَ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَى ظَهْرِهِ ۖ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَايَتِ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ - ترجمہ ۔ اگر اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے پس جہاز رہ جائیں کھڑے کے کھڑے دریا کے پشت پر۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک بڑے صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے ۔ تفسير - يسكن الريح ۔ ان کے اسٹیم روک دے۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۰) ۳۷، ۳۸۔ فَمَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَ ابْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ - وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبِيرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَ إِذَا مَا غَضِبُواهُمْ يَغْفِرُونَ - ترجمہ ۔ کہ جو کچھ تم کو دیا گیا ہے کوئی چیز ہو یہ تھوڑے دن کا فائدہ اٹھانا ہے دنیا کی زندگی کا اور جو اللہ کے یہاں ہے وہ تو بہت بہتر و زیادہ پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور ۔ اور جو لوگ بچتے ہیں کبیرہ گناہوں سے ( یعنی بڑے گناہوں سے ) اور کھلی بے حیائی کی باتوں سے اور جب ان کو غصہ آجاتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں ( ڈھانپ لیتے ہیں یعنی پی جاتے ہیں ) ۔ تفسیر - يَجْتَنِبُونَ كَبير - ہر ایک بدی کی ابتدا صغیرہ ہے۔ یعنی مبادی معاصی اور انتہا کبیرہ ہے۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۰) وَ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ وَ خَيْرٌ وَ ابْقَى ۔۔ هُمْ يَغْفِرُونَ ۔ وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں بہت ہی اچھی اور ہمیشہ رہنے والی ہیں اور انہ والی ہیں اور انہیں کو ملیں گی کہ جو ایمان لا کہ جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر ان کا بھروسہ ہے اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچے رہتے ہیں۔ اور اگر کسی پر غضب کریں تو عفو کرتے ہیں ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۴)