حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 133
حقائق الفرقان ۱۳۳ سُوْرَةُ الشُّورى سے یہ نتیجہ نکلا کہ ہر ایک شریف انسان دوسرے سے عبرت پکڑتا ہے۔ہم کس قدر دکھیاروں کو دیکھتے ہیں تو قرآن کریم کے مطابق مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ۔ہر ایک کو اپنے کئے ہوئے کی سزا ملتی ہے۔جو کچھ تم کو مصیبت آئی۔تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تم کو ملی۔میں نے کبھی کسی مومن کو نمبر ۱۰ کا بدمعاش نہیں دیکھا۔نہ ہی نیک اعمال والے کو آتشک کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔اس طرح ہر قسم کی بیماریوں اور مصیبتوں کا یہی حال ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے ایک استاد صاحب سے ایک جذامی علاج کروایا کرتا تھا۔اس کی تنخواہ ماہوار میں ہزار روپے تھی۔گویا ایک ہزار روپیہ یومیہ وہ پاتا تھا۔ایک دن وہ استاد صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ حضور نے بیسن کی روٹی کھانے کیلئے فرمایا ہے۔وہ نکلنی مشکل ہے۔اگر حکم ہو تو کچھ لقموں کے بعد ایک ڈلی مصری کی بھی کھا لیا کروں۔میرے استاد صاحب نے بڑے زور سے فرمایا کہ نہیں۔ہرگز نہیں ہو سکتا۔وہ آدمی بڑا مہمان نواز تھا۔مگر اس وقت وہ روپیہ اس کے کام نہ آ سکا۔اسی طرح دیکھتے ہیں کہ مسلول و مدقوق کی حالت جب ترقی کر جاتی ہے تو دوسرے آدمی پاس بیٹھنے ، کھانے پینے وغیرہ سے مضائقہ کرتے ہیں۔یہ جسمانی بیماری کا حال ہے۔اسی طرح روحانی بیماری کا حال ہے۔سننے والو! ظاہر کو باطن سے تعلق ہوتا ہے۔اور باطن کو ظاہر سے رشتہ ہے۔غور کرو۔( میں دیکھتا ہوں ) ایک دوست کو دیکھ کر میرے دل کو سرور ملتا ہے۔اور دیکھتے ہی دل خوش ہو جاتا ہے۔اس کا دیکھنا جو ظاہری ہے۔اس نے باطن میں جا کر دخل پایا۔اسی طرح ایک دشمن کو دیکھ کر میں خوش نہیں ہوتا۔بلکہ اس وقت میرے دل کی حالت کچھ اور ہوتی ہے۔یہ اس باطن کی رنجیدگی سے ظاہر پر اثر ہوتا ہے۔اور اس کے آثار میرے چہرہ پر اور ہر میرے اعضاء پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔پھر غصہ میں آ کر اسے کچھ نہ کچھ نا گوار لفظ بول دیتے ہیں۔اس سے یہ قاعدہ نکلا کہ باطن کو ظاہر کے ساتھ اور ظاہر کو باطن کے ساتھ تعلق ضرور ہوتا ہے تو یہ معاملہ صاف ہے کہ انسان کا اندرونہ اور بیرونہ کچھ عجائبات سے با ہم پیوست ہوتا ہے۔الفضل جلد نمبر ۱۸ مورخه ۱۵/اکتوبر ۱۹۱۳ ، صفحه ۱۵)