حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 132
حقائق الفرقان ۱۳۲ سُورَةُ السُّورى بدیاں کرتے۔ سردست جماعت اسلام تعداد میں بہت ہی قلیل اور تھوڑی سی ہے اور مسائل اسلام بھی جو پیش ہوئے ہیں بہت کم ہیں۔ یہ بدبخت منافق اگر اس قلیل جماعت کے سامنے تاب مقابلہ نہیں لا سکتے اور اپنے دل کی مرض سے بزدل ہو کر مسلمانوں کی ہاں میں بظاہر ہاں ملاتے ہیں تو یا د رکھیں ۔ ان کا یہ کمزوری کا مرض اور بڑھے گا کیونکہ یہ جماعت اسلام روز افزوں ترقی کرے گی اور یہ موذی بد معاش اور بھی کمزور ہوں گے اور ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی : اہی ہوا۔ نیز اسلام کے مسائل روز بروز ترقی کریں گے۔ جب یہ لوگ تھوڑے سے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو ان مسائل کثیرہ کا کیا فیصلہ کر سکیں گے جو یوماً فيوماً روز افزوں ہیں ۔ بہر حال ان کا مرض اللہ تعالیٰ بڑھائے گا اور اسلام کو ان کے مقابلہ میں ترقی دے گا۔ ہاں رہی یہ بات کہ یہ سزا ان کو کیوں ملی تو اس کا جواب بھی سچ ہے کہ ان کے اپنے اعمال کا بد نتیجہ تھا۔ اس میں قرآن کریم کا ارشاد یہ ہے۔ مَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ (الشورى: ۳۱) یعنی تمہیں ہر ایک مصیبت اپنے ہاتھوں کی کرتوت کے سبب سے پہنچتی ہے۔ عمدہ غذا، ہوا اور بہار کا مزہ تندرست کو ملتا ہے۔ نہ بیمار کو۔ یہ قانون قدرت ہے۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۸۸-۸۹) میں نے بعض نادانوں کو دیکھا ہے۔ جب جناب الہی اپنی کامل حکمت و کمالیت سے اس کے قصور کے بدلے سزا دیتے ہیں اور وہ سزا اسی کی شامت اعمال سے ہی ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا۔ وَمَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ تو وہ شکایت کرنے لگ جاتے ہیں۔ مثلاً کسی کا کوئی پیارے سے پیار ا مر جائے تو اس ارحم الراحمین کو ظالم کہتے ہیں۔ بارش کم ہو تو زمیندار سخت لفظ بک دیتے ہیں اور اگر بارش زیادہ ہو تب بھی خدا تعالیٰ کی کامل حکمتوں کو نہ سمجھتے ہوئے برا بھلا کہتے ہیں۔ اس لئے ہر آدمی پر حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس و تسبیح کرے۔ آپ کے کسی اسم پر کوئی حملہ کرے تو اس حملہ کا دفاع کرے۔ الفضل جلد نمبر ۶ مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۱۳ صفحه (۱۲) ہر شریف الطبع آدمی دوسرے کو کسی مصیبت میں مبتلا پا کر عبرت پکڑتا ہے۔شریف مزاج لڑکوں کو جب ہم نصیحت کرتے ہیں تو کسی اور کا حوالہ دیتے ہیں کہ فلاں نے ایسا کام کیا تو یہ سزا پائی۔ اس