حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 131

حقائق الفرقان ۱۳۱ سُورَةُ الشَّورى اور جو شخص نیکی کرے گا ہم اس کو زیادہ دیں گے اُس کی نیکی میں خوبی۔بے شک اللہ بڑا عیبوں کا ڈھانپنے والا بڑا قدر دان قبول کرنے والا ہے۔ورود تفسیر - إِلَّا الْمَوَدَّةَ في القُربى - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا اعلان فرمایا لَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ اجرا کہ میں اس تبلیغ پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ہاں مودۃ فی القربیٰ چاہتا ہوں۔لوگوں نے اس کے معنے کئے ہیں۔حضرت امام حسین وسیدۃ النساء سے محبت کرو۔یہ بات تو بہت اچھی ہے۔مگر یہ سورۃ مکی ہے اور اس وقت امام حسین پیدا نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابن عباس نے اس کے خوب معنے کئے ہیں کہ تمام عرب آپس میں خانہ جنگیاں چھوڑ کر اتحاد و موڈت پیدا کر لو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قوم میں رشتہ تھا پس آپ نے فرمایا۔ان خانہ جنگیوں کو چھوڑ کر مودت اختیار کر لو کہ اس میں بھی تمہارا ہی بھلا ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ جو چیزیں تمہیں اللہ کے نزدیک کرتی ہیں ان کی محبت پیدا کرو اور ان کے حصول کی کوشش و آرزو میں لگ جاؤ۔تیسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کی محبت رکھو۔تینوں معنی صحیح اور پاکیزہ ہیں۔تفخیذ الا ذہان جلدے نمبر ۴۔ماہ اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۷۸۔۱۷۹) إلَّا الْمَوَدَّةَ فِي القُربى تم پیار کرو ان کاموں میں جو قرب الہی کا موجب ہیں یا یہ کہ اپنے رشتہ تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۸۰) داروں میں محبت بڑھاؤ۔٣١ وَمَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَنْ ترجمہ۔اور تم پر جو کچھ مصیبت پڑتی ہے وہ تمہاری ہی بداعمالیوں کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو وہ معافی کر دیتا ہے یا بہتوں سے وہ معاف کر دیتا ہے۔تفسیر۔جب ہمارے نبی کریم اور رسول رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے۔تو چند دشٹ، منافق، دل کے کمزور جن میں نہ قوت فیصلہ تھی اور نہ تاب مقابلہ۔آپ کے حضور حاضر ہوئے اور بظاہر مسلمان ہو گئے اور آخر بڑے بڑے فسادوں کی جڑ بن گئے۔وہ مسلمانوں میں آ کر مسلمان بن جاتے اور مخالفانِ اسلام کے پاس پہنچتے تو مسلمانوں کی