حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 4
حقائق الفرقان ۱۳ سُوْرَةُ فَاطِرٍ وَ مَا يَسْتَوِي الْبَحْرُنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَابِعُ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أجَاجُ وَمِنْ كُلِّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيَّا وَ تَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَ تَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ - ترجمہ۔اور دو دریا برابر نہیں ہو سکتے ایک تو میٹھا پیاس بجھاتا ہے جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ دوسرا کھارا کڑوا اور دونوں میں سے تم کھاتے ہو تازہ تازہ گوشت اور زیور نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو دریا میں پھاڑتی چلی جارہی ہیں تا کہ تم تلاش کرو اللہ کا فضل و دولت تا کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔تفسیر۔وَمِن كُلّ تَأْكُلُونَ۔یعنی جس طرح ملح اجامے سے بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔اسی طرح انہی گندے لوگوں سے نیک بن کر اسلام میں آجائیں گے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ را کتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۸) ١٦ - يَايُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ۔ترجمہ۔اے لوگو! تم سب فقیر ہو اللہ کی طرف اور اللہ ہی غنی اور بے پروا تعریف کیا گیا ہے۔تفسیر - الفقراء - امیر سے امیر انسان اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے۔ایک دم کا ایسا احتیاج ہے کہ یہ زندگی وموت کا سوال ہے۔اور پھر احتیاج بھی عجیب طور پر ہے کہ ایک طرف سے ہوا کے داخل ہونے کا احتیاج ہے تو دوسری طرف ہوا کے خارج ہونے کا۔ایک طرف پانی پینے کا احتیاج ہے۔تو دوسری طرف اس کے اخراج کی حاجت ہے۔انسان حق کا بھی محتاج ہے۔اور حق کے علم پر عمل کرنے کیلئے تو فیق کے حصول کا بھی ایسا ہی محتاج ہے۔اگر خدا کا فضل نہ ہو تو بڑے بڑے عالم فسق و فجور میں مبتلا ہو جاویں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۰۸) يَايُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ - لے بے ریب انسان اپنا خالق آپ نہیں۔نہ اس کے ماں باپ اور اس کے خویش اقارب نے جو اسی کی استعداد کے قریب قریب ہیں اس کو گھڑ کر درست کیا۔اپنی بدصورتی کوحسن سے بدلا نہیں سکتا۔لے اے انسانوں تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی غنی حمد کیا گیا ہے۔