حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 125 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 125

حقائق الفرقان ۱۲۵ سُورَة حم السجدة وَمِنْ أَيْتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ - ترجمہ۔اور اُس کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں۔تو تم سجدہ کر دسورج کو نہ چاند کو اور سجدہ کر واللہ ہی کو جس نے ان کو پیدا فرمایا اگر تم اسی کی عبادت کرنا چاہتے ہو۔تفسیر۔اور اس کے نشانوں سے ہے رات، دن ، سورج اور چاند۔مت سجدہ کر وسورج اور چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۴ حاشیہ) اللہ کا علم ایسا وسیع ہے کہ بشر اس کے مساوی ہو ہی نہیں سکتا۔جو نشان اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت کیلئے بطور نشان رکھے ہیں وہ کسی اور میں نہیں بنانے چاہیں۔بڑا نشان تذلل کا ہے۔سجدہ۔اس سے بڑھ کر اور کوئی عاجزی نہیں۔زمین پر گر پڑے۔اب آگے اور کہاں کدھر جاویں۔فرماتا ہے۔لا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ۔پس جو غیر کو سجدہ کرے وہ مشرک ہے۔حنفی مذہب میں یہ معرفت کا نکتہ ہے کہ رکوع کو بھی سجدہ میں داخل کر لیا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ آیت سجدہ پڑھ کر رکوع چلے جانا بھی مِن وَجهِ سجدہ ہے۔اسی واسطے ؤ کے ساتھ نہیں آتا۔الرُّكَّعِ السُّجُودِ آیا ہے۔اردو میں ایک مصرعہ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے ہاتھ باندھ کر بہیت صلوۃ کسی کے سامنے کھڑے ہونا اور امید وبیم کے لحاظ سے اس کی وہ تعریفیں (جو خدا تعالیٰ کی کی جاتی ہیں ) کرنا بھی شرک ہے۔اور کسی سے سوائے اللہ کے دعا مانگنا بھی۔ہاں دعا کروانا شرک نہیں ہے۔( بدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ /جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۲) ٤١ - إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِى أيتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا أَفَمَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ خَيْرُ اَم مَنْ يَأْتِيَ امِنَّا يَوْمَ الْقِيمَةِ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ دو بصير - لا ترجمہ۔جو لوگ ہیر پھیر کر غلط مطلب ثابت کرنا چاہتے ہیں ہماری آیتوں میں وہ ہم سے چھپے