حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 124
حقائق الفرقان ۱۲۴ سُورَة حم السجدة ۳۶،۳۵- وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيهُ - وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقُهَا إِلا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ - ترجمہ۔اور نیکی بدی تو برابر نہیں ہو سکتی۔بڑی بات کو ایسی بات سے دفع کیا کر جو بہت بھلی ہو جب تو ایسا کرے گا تو وہ شخص کہ تجھ میں اور اُس میں دشمنی ہے ( تیرا) گاڑھا دوست بن جائے گا گویا کہ وہ تیرا دلی دوست ہے۔اور یہ خصلت انہیں کو دی جاتی ہے جو نیکی پر جمے رہتے ہیں اور بدیوں سے بچتے ہیں اور یہ (بات) تو بڑے ہی خوش نصیب لوگوں کو ملتی اور سکھائی جاتی ہے۔تفسیر۔نیکی و بدی۔دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم پلہ اور خوبی میں مساوی نہیں۔بدی کا دفعیہ نیکی کے ساتھ کر دکھاؤ۔اگر ایسا ہی حسنِ سلوک اپنے دشمنوں سے کر دکھاؤ گے تو تمہارے دشمن بھی تمہارے سچے دوستوں اور گرم جوش والے خیر خواہوں کی طرح ہو جاویں گے۔اس نصیحت کو وہی لوگ مانیں جو بڑی برد باری اور بلند حوصلگی کا حصہ رکھتے ہیں۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۳۱،۲۳۰) ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ( حم السجدة : ۳۵)۔مدافعت بھی کرو تو اس طریق سے کہ وہ بہت ہی عمدہ ہو۔ادفع الشيئة بالحسنة۔ہر بدی کو کسی خوبی سے ہٹادو۔جب مخالفوں کے ساتھ بھی ہمیں مدافعت میں خوبیاں مد نظر رکھنی چاہیں تو دو مسلمانوں کے درمیان تباغض، عداوت اور باہم جنگ کیونکر ہوسکتی ہے۔( بدر جلد ۱۰ نمبر ۹ مورخه ۵/ جنوری ۱۹۱۱ء صفحه ۱۴) ۳۷- وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ترجمہ۔اور اگر تجھ کو رو کے شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو تو اللہ کی پناہ مانگ ( یعنی کثرت سے استغفار کر ) بے شک وہ بڑا سننے والا ہے ( مضطر کی دعا ) بڑا جاننے والا ہے (نیک نیتی کا )۔