حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 123
حقائق الفرقان ۱۲۳ سُورَة حم السجدة رہتا ہے اور موقع پر تحریکیں کرتے ہیں۔اگر وہ تحریک نیکی کی ہے تو فرشتہ کی طرف سے ہے اور بتدریج پھر وہ تحریک ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے۔اور وہ انسان اس میں لگ پڑتا ہے۔یہاں تک کہ اس کے ملائکہ اور شیاطین میں جنگ ہو پڑتی اور ملائکہ جیت جاتے اور پھر وہ شخص فرشتوں سے مصافحہ کر لیتا ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ المليكة۔۔۔الآيد پس ایسے لوگوں پر پھر ملائکہ نازل ہوتے اور خدا کہتا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔مت غم کھاؤ۔پس اس طرح ملائکہ کا ماننا بھی نیکی سکھلاتا اور بدی سے روکتا ہے۔الحکام جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۱۱) اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ( حم السجدہ : ۳۱، ۳۲) جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس اقرار پر پختہ ہو گئے ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ نہ ڈرو اور نہ غمگین ہو اور خوشی مناؤ اس جنت کی کہ جس کا تمہیں نہ وعدہ دیا جا تا تھا۔ہم دنیا میں اور آخرت میں تمہارے ساتھی ہیں۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۶۳) ۳۴- وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - ترجمہ۔اور اُس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور بھلے کام کرے اور کہے میں تو فدائی فرمانبرداروں میں سے ہوں۔تفسیر۔اس شخص سے بھلی بات کس کی۔جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور اچھے کام کئے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۳۴)