حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 122
حقائق الفرقان ۱۲۲ سُورَة حم السَّجْدَةِ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث ہو جاؤ اور حقیقی رؤیا اور الہام سے حصہ پاؤ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۶) خوش قسمت وہی ہے جو ان باتوں سے فائدہ اٹھائے۔ جذبات نفس پر قابو رکھ کر خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرے۔ مساکین اور یتامی کو مال دیوے ۔ قسم قسم کے طریقوں سے رضا جوئی اللہ تعالیٰ کی کرے۔ ایک وقت کا عمل دوسرے وقت کے عمل سے بعض دفعہ اتنا فرق رکھتا ہے کہ اول مہاجرین نے جہاں ایک مٹھی جو کی دی تھی۔ بعد میں آنے والا کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا دیتا تھا تو اس کی برابری نہ کر سکتا تھا۔ سائل کو دو، دکھی کو دو، ذوی القربی کو دو، نماز سنوار کر پڑھو، مسنون تسبیح اور کلام شریف اور دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں بھی عرض معروض کرو تا کہ دلوں پر رقت طاری ہو۔ غریبی میں ، امیری میں و مشکلات میں و مقدمات میں ، ہر حالت میں مستقل رہوا اور صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔ تقویٰ کا ابتدا دعا ، خیرات اور صدقہ سے ہے اور آخر ان لوگوں میں شامل ہونے سے ہے۔ جن کی نسبت فرمایا ہے۔ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا ۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت دکھلائی ۔ ( بدر جلد ۲ نمبر ۵۰ مورخه ۱۳ / دسمبر ۱۹۰۶ ء صفحه (۹) نیکی کی تحریک کیلئے ملائکہ بڑی نعمت ہیں وہ انسان کے دل میں نیکی کی تحریک کرتے ہیں۔ اگر کوئی ان کے کہنے کو مان لے تو اس طبقہ کے جو ملائکہ ہیں وہ سب اس کے دوست ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں فرمایا۔ نَحْنُ أَوْلِيؤُكُمْ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيا (آیت:۳۲) ایسی پاک مخلوق کسی کی لی دوست ہو اور کیا خواہش ہو سکتی ہے؟ (الحکم جلد ۱۵ نمبر ۲۱ و ۲۲ مورخه ۷ ، ۱۴ رجون ۱۹۱۱ عصر ن ۱۹۱۱ ء صفحه ۶) انسان کو بیٹھے بیٹھے کبھی نیک اور کبھی بدا را دے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ کیوں ہوتے ہیں۔ جبکہ کوئی کام بدوں اسباب اور علل کے نہیں ہوتا۔ تو نیک اور بدار ادے کی تحریک کیوں ہوئی۔ اس محرک کو ریعت میں فرشتہ کہتے ہیں ۔ ہم اسی پر قناعت کرتے اور نیکی کے محرک کا نام فرشتہ رکھتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ملائکہ و شیاطین کو ہر وقت انسان کے دل سے تعلق ہماری ۔ لے ہمیں تمہارے دلی دوست ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ۔