حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 121
حقائق الفرقان ۱۲۱ سورة حم السجدة ۳۱ تا ۳۳ - إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ اَلَا تَخَافُوا وَ لَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُم تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ - ترجمہ۔کچھ شک نہیں کہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب تو اللہ ہی ہے ( پھر سب کا دھیان اور مطلق گناہ چھوڑ دیا ) اور اسی حالت پر جمے رہے تو ان پر فرشتے اُترتے ہیں ( یہ کہتے ہوئے ) کہ آپ خوف نہ کریں اور دل میں رنجیدہ نہ ہوں اور خوشخبری سنیں اُس جنت کی جس کا آپ سے وعدہ ہو چکا ہے۔ہمیں تمہارے دلی دوست ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور تمہارے لئے وہاں موجود ہو گا جو کچھ تم مانگو گے۔یہ غفور الرحیم کی طرف سے ناشتہ اور مہمانی ہے۔تفسیر۔جو لوگ ایمان کو مشروط کرتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی پروا نہیں کرتا۔ہاں خدا تعالیٰ کسی کو خالی نہیں چھوڑتا۔جو اس کی راہ میں صدق و ثبات سے قدم رکھتا ہے۔وہ بھی اس قسم انعامات سے بہرہ وافر لے لیتا ہے۔جیسے فرمایا إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا ربُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ - جن لوگوں نے اپنے قول وفعل سے بتایا کہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے۔پھر انہوں نے اس پر استقامت دکھائی۔ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ ملائکہ سے پہلے دو باتیں ضروری ہیں۔ربنا اللہ کا اقرار اور اس پر صدق و ثبات اور اظہا ر استقامت۔ایک نادان سنت اللہ سے ناواقف ان مراحل کو تو طے نہیں کرتا اور امید رکھتا ہے اس مقام پر پہنچنے کی جوان کے بعد واقع ہے۔یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے۔اس قسم کے شیطانی وسوسوں سے بھی الگ رہنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں استقامت اور عجز کے ساتھ قدم اٹھاؤ۔قومی سے کام لو۔اس کی مدد طلب کرو۔پھر یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم