حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 115

حقائق الفرقان ۱۱۵ سُورَة حم السجدة مخلوق الہی کے پاس پہنچی اور پہنچے گی۔اور روح کے معنی اگر ملائکہ اور انبیا علیہم السلام کے لیں تو وہ مخلوق ہیں۔ایک وقت میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ مختلف اوقات اور انواع واقسام کے مختلف اشیاء سے پیدا ہوا کئے۔انسانی جسمانی روح ایک قسم کی لطیف ہوا ہے جو انسان میں شریانی عروق اور انسانی پھیپھڑوں کے بن جانے اور قابل فعل ہونے کے وقت نفخ کی جاتی ہے اس مطلب کو سمجھنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر غور کرو۔یہ صادق کتاب حقیقت نفس الامری کی خبر دیتی ہے کہ انسان اسی نطفہ سے جو عناصر کا نتیجہ ہے۔خلق ہوتا ہے اور پھر یہیں اسے سمیع و بصیر یعنی مدرک اور ذی العقل بنایا جاتا ہے۔نہ یہ کہ پیچھے سے اپنے ساتھ کچھ لاتا ہے۔اور پرانے اعمال کا نتیجہ۔اس کے ساتھ چپٹا ہوتا ہےجس و ہم وفرض کا کوئی مشاہدہ کا ثبوت نہیں۔۔ایک مدت تک مجھے تعجب اور افسوس ہوا کہ تکذیب براہین کے مصنف صاحب نے اس قدر طول طویل اعتراض آیت شریفہ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ (الاعراف: ۵۵) پر کیوں کیسے اور میرے تعجب اور افسوس کی کئی وجہیں ہیں۔اوّل۔اس لئے۔چھ دبئی میں زمین ، آسمان اور جو کچھ ان دونوں میں ہے۔اس کے پیدا ہونے کی خبر ایسے سچے لوگوں نے دی ہے جن کا صدق مختلف دلائل اور نشانات سے ثابت ہے اور اس خبر کو مشاہدہ ضرور یہ علوم اور قانونِ قدرت کے مستحکم انتظام نے نہیں جھٹلایا۔دوم۔اس لئے کہ جن لوگوں نے یہ خبر دی ہے ان میں سے ایک کا نام سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہے اور دوسرے کا نام سید نا محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ان لوگوں نے یوں کہا ہے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی۔اور اسی کے مکالمہ سے یہ بات ہمیں معلوم ہوئی۔ان خبر دہندوں کی امداد اللہ تعالیٰ نے جیسے کی ہے اس کی خبر دنیا سے مخفی نہیں۔اور جو تعجب انگیز کامیابی ان لوگوں کو ہوئی۔اس کی نظیر مدعیانِ الہام میں کوئی نہیں دکھا سکا۔انصاف کرو کیا جناب الہی کی پاک اور مقدس بارگاہ سے جھوٹوں کو ایسی امدادل سکتی ہے۔دن یا یوم کے معنی ۱۲ گھنٹے کے نہیں۔یادرکھو۔