حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 114
حقائق الفرقان ۱۱۴ سُورَة حم السجدة پہنچانے والا ہے ( تو اس کا برابر والا ہی کون ہے )۔اور پیدا کر دیئے زمین میں پہاڑ اور اس کے اندر برکت رکھی اور اس میں ٹھہرادی رہنے والوں کے لئے خوراک۔یہ سب چار وقتوں میں ہوا۔پورا ہو گیا سوال کرنے والوں کے لئے جواب۔پھر متوجہ ہوا آسمان کی طرف اور وہ دھواں تھا پھر اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ خوشی سے یاز بر دستی حاضر ہو جاؤ۔دونوں نے عرض کی ہم تو بخوشی حاضر ہیں۔پھر سات آسمان بنادیئے (اسی طرح زمین) پھر اُن کو بنا دیا دو وقتوں میں اور بھیج دیا ہر ایک آسمان میں اُس کا حکم اور انتظام اور آراستہ کر دیا دنیا کے آسمان کو چراغوں سے ستاروں کے اور محفوظ بنایا۔یہ بڑے زبر دست دانا کے اندازے ہیں۔تو کہہ۔کیا تم ایسے خدا کا کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے شریک مقرر کرتے ہو۔یہی تو عالموں کا پروردگار ہے۔پھر اس پر پہاڑ بنائے اور زمین کو برکت دی اور اشیائے خوردنی کے اس میں اندازے باندھے۔یہ سب کچھ چار دن میں ہوا۔حاجت مندوں کیلئے سب سامان درست ہو گیا۔پھر سماء کی جانب متوجہ ہوا اور وہ دخان تھا ( یعنی اسے ٹھیک کیا ) پھر اسے اور زمین دونوں کو کہا کہ خواستہ یا نخواستہ تم دونوں حاضر ہو جاؤ۔انہوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں ( یہ ایک انداز محاورہ ہے جس کا مدعا یہ ہے کہ یہ اشیاء ہمارے مطبع فرمان ہیں اور کبھی کسی طرح ہمارے حکم سے انحراف کر نہیں سکتیں) پھر ان کو سات سماء مقرر کیا دو دن میں اور ہر سماء کو اس کا متعلق کام سپر د کیا۔( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۶ حاشیہ ) مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے۔اَللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيني (الرعد: ۱۷) اس اعتقاد سے مٹی کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔اور مٹی کے مادہ کا خالق بھی وہی ہے۔مادہ اور روح کی تشریح جس قدر روحانی تربیت میں مفید ہے اس قدر قرآن کریم نے تشریح کر دی ہے۔اور جس تفصیل کی ضرورت روحانی تعلیم میں نہیں۔اس سے قرآن کریم نے سکوت فرمایا۔خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اگر روح کے معنے کلام الہی کے ہیں۔تو روح غیر مخلوق اور غیر مادی ہے۔یہ روح البی صفت ہے۔اور مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں پر نازل ہوتی رہی اور نازل ہوتی ہے۔اور نازل ہوگی اور اُن کی وساطت سے عام