حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 111

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بے انت اور اس کے مراتب و درجات بے انتہا ہیں۔پھر مومن کیونکر مستغنی ہو سکتا ہے اس لئے اسے واجب ہے کہ اللہ کے فضل کا طالب اور ملائکہ کی پاک تحریکوں کا متبع ہو کر کتاب اللہ کے سمجھنے میں چست و چالاک ہو۔اور سعی اور مجاہدہ کرے۔تقویٰ اختیار کرے تا سچے علوم کے دروازے اس پر کھلیں۔غرض کتاب اللہ پر ایمان تب پیدا ہو گا۔جب اس کا علم ہوگا اور علم منحصر ہے مجاہدہ اور تقوی پر اور فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ سے الگ ہونے پر۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵) یہودیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور وحی پر ایمان لانے سے جو چیز مانع ہوئی وہ یہی تکبر علم تھا فرِ حُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْم۔انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارے پاس ہدایت کا کافی ذریعہ ہے۔صحفِ انبیاء اور صحف ابراہیم و موسی ہمارے پاس ہیں ہم خدا تعالیٰ کی قوم کہلاتے ہیں تحن ابْنَاءُ اللهِ وَ احِباتہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم عربی آدمی کی کیا پرواہ کر سکتے ہیں۔اس تکبر اور خود پسندی نے انہیں محروم کر دیا اور وہ اس رحمۃ للعلمین کے ماننے سے انکار کر بیٹھے جس سے حقیقی توحید کا مصفی اور شیر میں چشمہ جاری ہوا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱/۱۰ پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۶) کتابوں کو جمع کرنے اور ان کے پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک پہونچا ہوا ہے۔میرے مخلص احباب نے بسا اوقات میری حالت صحت کو دیکھ کر مجھے مطالعہ سے باز رہنے کے مشورے دیئے۔مگر میں اس شوق کی وجہ سے ان کے دردمند مشوروں کو عملی طور پر اس بارہ میں مان نہیں سکا۔میں نے دیکھا ہے کہ ہزاروں ہزار کتابیں پڑھ لینے کے بعد بھی وہ راہ جس سے مولیٰ کریم راضی ہو جاوے اس کے فضل اور مامور کی اطاعت کے بغیر نہیں ملتی۔ان کتابوں کے پڑھ لینے اور ان پر ناز کر لینے کا آخری ڈپلومہ کیا ہوسکتا ہے۔یہی کہ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْم الحکم جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۵ صفحه ۶)