حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 110

حقائق الفرقان 11۔سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ - فَلَمَّا جَاءَتُهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ وَ حاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - ترجمہ۔پھر جب اُن کے پاس آئے اُن کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر تو یہ لوگ خوش ہوئے اس پر جو اُن کے پاس علم تھا اور الٹ پڑا اُن پر وہی جس کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقویٰ اللہ سے روکنے والی ایک خطر ناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے فَرِحُوا بما عِندَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ کسی قسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرے۔اسی کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ سچے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے۔خواہ کسی قسم کا علم ہو۔وجدان کا ، سائنس کا ، صرف ونحو یا کلام یا اور علوم۔غرض کچھ ہی ہوانسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقیوں کی پیاس مٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے۔راست باز انسان کی پیاس سچائی سے کبھی نہیں بجھ سکتی۔بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے۔اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ ایک کامل انسان۔اَعْلَمُ بِالله اتقی لِلهِ اخْشى لِلہ جس کا نام محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے سچے علوم ، معرفتیں، بچے بیان اور عمل درآمد میں کا مل تھا۔اس سے بڑھ کر ، اعلم ، اتھی اور انشی کوئی نہیں۔پھر بھی اس امام المتقین اور امام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے قُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا - (طه : ۱۱۵) اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچائی کیلئے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں اور علوم حقہ کیلئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی۔جس قدر وہ نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کرے گا۔جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بجھا ہوا محسوس کرے۔اور فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ کے آثار پائے اس کواستغفار اور دعا کرنی چاہیے کہ وہ خطرناک مرض میں مبتلا ہے جو اس کیلئے یقین اور معرفت کی راہوں کوروکنے والی ہے۔ے کہا کراے میرے رب ! مجھے علم اور زیادہ دے۔