حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 104
حقائق الفرقان اولد سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ جو شخص اپنی خواہشوں کو خدا کی رضا کیلئے نہیں چھوڑتا تو خدا بھی اس کیلئے پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کیسے دشمن موجود تھے مگر وہ خدا جس نے إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي في الحيوة الدنيا فرمایا۔ اس نے سب پر فتح دی صلح حدیبیہ میں ایک شخص نے آ کر کہا۔ تم اپنے بھائیوں کا جتھا نہ چھوڑو۔ ایک ہی حملہ میں یہ سب تمہارے پاس بیٹھنے والے بھاگ جائیں گے ۔ اس پر صحابہؓ سے ایک خطر ناک آواز سنی ۔ اور وہ ہکا بکا پرر غلط ہو گئے ۔ رہ گیا۔ یہ حضرت نبی کریم کے اللہ کے حضور بار بار جان قربان کرنے کا نتیجہ تھا کہ ایسے جاں نثار مرید ملے۔ آخر وہ جو باپ بنتے تھے۔ جو تجربہ کار تھے۔ ہر طرح کی تدبیریں جانتے ۔ ان سب کے منصوبے ( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه (۹) ۵۶۔ فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ - ترجمہ ۔ تو صبر کر (یعنی نیکیوں پر جمارہ اور بدیوں سے بچتا رہ ) بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور حفاظت مانگ اپنی بشریت کی کمزوری کی اور تسبیح کر اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام اور صبح ۔ تفسیر بالعشی ۔ پچھلے پہر ۔ (ضمیمه اخبار پہر - ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخه ۸ / دسمبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۹) ۵۷ - إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي ايْتِ اللهِ بِغَيْرِ سُلْطَنَ أَتْهُمْ إِنْ فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرُ مَا هُمْ بِبَالِغِيهِ ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ - ترجمہ ۔ جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی نشانیوں میں بغیر سند کے جو اُن کے پاس آئی ہوان کے سینوں میں تو ایک غرور بھرا ہوا ہے کہ وہ اس تک پہنچنے والے نہیں تو تو پناہ مانگ اللہ کی بے شک وہ بڑا سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے ۔ تفسیر - سلطن - دلیل ۔