حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 95
حقائق الفرقان ۹۵ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ سے انسان تکذیب کرتا ہے۔اور جھٹلانے کے بعد صداقت کی راہ نہیں ملتی ہے۔پہلے تکذیب کر چکتا ہے۔پھر انکار کرتا ہے یاد رکھو مفتری کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا۔إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَابُ (المؤمن : ۲۹) پس اپنے اندر دیکھو کہ کہیں ایسا مادہ نہ ہو۔کبھی کبھی انسان کی ایک بد عملی دوسری بدعملی کیلئے طیار کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ سے بہت وعدہ کر کے خلاف کرنے والا منافق مرتا ہے۔امام کے ہاتھ پر بڑاز بر دست اور عظیم الشان وعدہ کرتے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔اب سوچ کر دیکھو کہ کہاں تک اس وعدہ کی رعایت کرتے ہو اور دین کو مقدم کرتے ہو۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۱ ، صفحہ ۳۔۴) يَكْتُمُ اِيْمَانَةٌ۔اس وقت تک ( تقریر ) اس نے اپنے ایمان کو مخفی رکھا تھا۔اَنْ يَقُولُ رَبِّي۔کیا عمدہ پیرا یہ نصیحت ہے۔کیسے دل آویز طریقے سے شرم دلائی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۸) يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (المؤمن:۲۹) اس بَعْضُ الَّذِی پر خوب غور کرو کہ اس میں یہی سر تھا کہ تمام وعدے نبی کی زندگی میں پورے نہ ہوں گے۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ نے فرمایا۔قَد يُوعَدُ وَ لایو ٹی۔یعنی بعض دفعہ خدا وعدہ کرتا ہے مگر پورا نہیں کرتا۔نادان سمجھتا ہے کہ اس نے وفا نہیں کی حالانکہ مناسب وقت پر وہ وعدہ دیا اس کی مثل پورا ہو جاتا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۶/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) ٣٠ - يُقَومِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظُهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إن جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا يُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرى وَمَا أَهْدِيكُمُ الأَسَبِيلَ الرَّشَادِ - ترجمہ۔اے میرے قوم ! تمہاری ہی سلطنت ہے آج غالب ہورہے ہو ملک میں پھر کون تمہاری مدد کرے گا اللہ کے عذاب سے اگر تم پر آنازل ہوا۔فرعون نے کہا میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو خود سمجھتا ا بے شک اللہ ہدایت نہیں دیتا حد سے بڑھے ہوؤں جھوٹوں کو۔۲ تم پر آ پڑے گا بعض اس عذاب کا جن کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔