حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 93 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 93

حقائق الفرقان ۹۳ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ اور کفار مکہ جس وقت اس بنی نوع انسان کے بچے خیر خواہ رؤف و رحیم بادی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء رسانی کی تدابیر وفکر میں لگے ہوئے تھے قرآن کہتا ہے۔إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَاكِيْدُ كَيْدًا ( الطارق :١٧،١٢) - غرض اسی طرح کسی واقعے کو بیان کرنا زبان عرب کا عموماً اور قرآن کا خصوصا طرز ہے۔ٹھیک ایسا ہی اس آیت میں ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ فرعون نے کہا یا اپنے ہالی موالی سے مشورہ کیا کہ مومنین کے بیٹوں کو مار ڈالومگر کسی وجہ سے اس کا ارادہ یا قول یا مشورہ صورت پذیر نہ ہوا جسے قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ کفار کی تدابیر یاداؤں اکارت جانے والا ہے۔یعنی وہ امر وقوع میں نہیں آیا۔بھلا پادری صاحبان ! اگر قتل والی بات غلط تھی تو کیوں بنی اسرائیل موسی اور ہارون کو کہتے ہیں تم نے کیوں فرعون کے ہاتھ میں تلوار دی ہے کہ وے ہم کو قتل کریں خروج ۵ باب ۲۲۔فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحه ۱۳۳ تا ۱۳۵) ۲۷۔وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي اقْتُلُ مُوسى وَ لَيَدُعُ رَبَّهُ ۚ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ - ترجمہ۔اور فرعون نے کہا میرے مزاحم مت ہو میں موسیٰ کو مار ڈالوں گا اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلا لے۔میں ڈرتا ہوں یہ کہ کہیں وہ تمہارے دین کو بدل نہ ڈالے یا یہ کہ نکال کھڑا کرے تمہیں ملک سے فساد کر کے۔تفسیر۔دنیا میں بڑی بڑی سلطنتیں ہوگزری ہیں مگر اب ان کا نام ونشان بھی باقی نہیں ہے۔ان يُبَدِّلَ دِينَكُمْ۔قوم کے دینداروں کو اس طریق سے اکسایا ہے۔يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ - یہ قوم کے امیروں کو برانگیختہ کیا ہے کہ دیکھو تمہاری امارت چھن (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۸) جائے گی۔لے وہ خفیہ داؤں بچارہے ہیں اور میں ان کے داؤں کو باطل کرنے کے درپے ہوں۔