حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 93
حقائق الفرقان ۹۳ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ اور کفار مکہ جس وقت اس بنی نوع انسان کے سچے خیر خواہ رؤف و رحیم ہادی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء رسانی کی تدابیر و فکر میں لگے ہوئے تھے قرآن کہتا ہے۔ إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَ أَكِيدُ كَيْدًا ( الطارق : ۱۶، ۱۷) ۔ غرض اسی طرح کسی واقعے کو بیان کرنا زبان عرب کا عموماً اور قرآن کا خصوصًا طرز ہے۔ ٹھیک ایسا ہی اس آیت میں ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ فرعون نے کہا یا اپنے ہالی موالی سے مشورہ کیا کہ مومنین کے بیٹوں کو مار ڈالو گر کسی وجہ سے اس کا ارادہ یا قول یا مشورہ صورت پذیر نہ ہوا جسے قرآن ان کے مار ڈالومگر سےاس الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ کفار کی تدابیر یاداؤں اکارت جانے والا ہے۔ یعنی وہ امر وقوع میں نہیں آیا۔ بھلا پادری صاحبان! اگر قتل والی بات غلط تھی تو کیوں بنی اسرائیل موسی اور ہارون کو کہتے ہیں تم نے کیوں فرعون کے ہاتھ میں تلوار دی ہے کہ وے ہم کو قتل کر میں خروج ۵ باب ۲۲۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اهل الكتاب حصہ اول صفحه الله 20 الله له کچھ ۲۷ - وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَ لْيَدْعُ رَبَّهُ ۚ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ - ترجمہ ۔ اور فرعون نے کہا میرے مزاحم مت ہو میں موسیٰ کو مار ڈالوں گا اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلا لے۔ میں ڈرتا ہوں یہ کہ کہیں وہ تمہارے دین کو بدل نہ ڈالے یا یہ کہ نکال کھڑا کرے تمہیں ملک سے فساد کر کے۔ تفسیر۔ دنیا میں بڑی بڑی سلطنتیں ہو گزری ہیں مگر اب ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے۔ ان يُبَدِّلَ دِينَكُمْ ۔ قوم کے دینداروں کو اس طریق سے اکسایا ہے۔ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ - یہ قوم کے امیروں کو برانگیختہ کیا ہے کہ دیکھو تمہاری امارت چھن جائے گی ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ رنومبر ۱۹۱۰ ء صفحه (۲۱۸) لے وہ خفیہ داؤں بچارہے ہیں اور میں ان کے داؤں کو باطل کرنے کے درپے ہوں ۔