حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 92 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 92

حقائق الفرقان ۹۲ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ 66 بلکہ فرعون نے موسیٰ سے پہلے یہودی لڑکے اس لئے مارے کہ وہ بڑھ نہ جاویں۔خروج ا باب “ کے جواب میں فرمایا:۔میں انصافاً اور حقا کہتا ہوں کہ یہ اعتراض محض نادانی اور قرآن کے طرز اور زبان کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔خوب یا درکھنا چاہیے کہ صیغہ امر ہمیشہ کسی فعل کے وقوع کو مستلزم نہیں ہوا کرتا۔قرآن کی اس آیت سے یہ کہاں پایا جاتا ہے کہ فرعون نے انہیں قتل کر ڈالا۔نصاریٰ کی عادت میں داخل ہے کہ دھوکہ دہی کے طور پر ایک ترجمہ فرضی اور ذہنی لکھ دیتے ہیں جو اصل کلام منقول عنہ سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔اس سے بجائے اس کے کہ ان کا مقصود اغوا واضلال برآوے۔اہل انصاف کے نزدیک ان کی اصلیت باطن اور غرض ظاہر ہو جاتی ہے۔اگر زبان عرب سے ذرا بھی مس ہو اور قرآنی طرز سے کچھ بھی واقفیت ہو تو بادنی تامل آشکار ہو سکتا ہے کہ آیت کا پچھلا حصہ معترض کے اعتراض کو باطل کئے دیتا ہے کہ ” کافروں کا کید یعنی دھو کے اور فریب کی تدبیریں اکارت ہو جانے والی ہیں، قرآن مجید کا یہ طرز ہے کہ جب منکروں اور کافروں نے خدا کے کسی برگزیدہ شخص کی نسبت ایذاء رسانی یا قتل و غیرہ کا منصوبہ باندھا اور خفیہ تدبیریں کیں مگر بوجہ من الوجوہ ان کی تدبیریں کارگر نہ ہوئیں اور وہ برگزیدہ شخص ان کے ابتلا کے دام سے محفوظ رہا۔اس وقت قرآن اس شخص یا اشخاص کے سلامت رہنے اور دشمنوں کی تدابیر کے کارگر نہ ہونے کو اسی طرح پر لفظ کید کے اطلاق سے ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے تدبیر تو کی اور منصو بہ تو باندھا مگر ان کا کید یعنی داؤں نہ چلا یا ہم نے چلنے نہ دیا۔نظیر دیکھو حضرت ابراہیم کے واقعہ میں جب دشمنوں نے اُن کو آگ میں ڈالا اور پھونک کر جلا دینا چاہا اور نصرت الہیہ سے جو ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے شامل حال رہتی ہے حضرت ابراہیم ان کے مکائد اور شر سے محفوظ رہے۔قرآن اس کو اس طرح پر بیان فرماتا ہے۔وره وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْأَخْسَرِينَ (الانبياء: ا ) - لے انہوں نے اس سے داؤں کرنے کا ارادہ کیا۔پس ہم نے انہیں کوٹو ٹا پانے والا کیا۔