حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 86
حقائق الفرقان ۸۶ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ تشریح ہے۔ پانی بخار بن کر بادل بنتا اور پھر برستا ہے ۔ اَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَ مَرْعُهَا النَّزِعْت : ۳۲) أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ۔ اس وقت ایک بارش ہوئی ہے۔ طبائع حسب فطرت پھل لائیں گی ۔ در باغ لاله روید و در شوره بوم خس کے پوچھتا ہے تم کس جماعت میں بننا چاہتے ہو۔ کیا مومن نہیں بنیں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ جون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۲) كانتا رتقا ۔ جب بارش نہیں ہوتی تو آسمان بند اور زمین بھی روئیدگی نہیں دیتی ۔ اسی طرح وحی کی بارش شروع ہو گئی ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۷) پانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَي (الانبیاء : ۳۱) پانی ہر شے کے لئے زندگی بخش ہے۔ اور قرآن مجید میں وحی الہی کی مثال پانی سے دی ہے اور وحی الہی کے متعلق بھی فرما یا فِيهِ شِفَاءٌ وَ نُور الحکم جلد ۱۴ نمبر ۴۱ مورخہ ۷ ر دسمبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۳) ٣٢ وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ وَ جَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ - ترجمہ ۔ اور ہم نے پیدا کئے زمین میں پہاڑ ایسا نہ ہو کہ زمین لوگوں کو لے کر جھک پڑے اور اس میں کھلے کھلے رستے تا کہ لوگ راہ پا جائیں۔ تفسیر آن تبید بھم ۔ کہ وہ پہاڑ بھی ان کے ساتھ چکر کھاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے یہ معنے گئے ہیں ۔ تَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ۔ جس طرح پہاڑوں میں رستے بنائے ۔ اسی طرح دینی مشکلات حل کرنے کے رستے بھی بنائے۔ دین کے رستے میں بھی پہاڑ ہیں۔ چنانچہ فرمایا۔ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَ مَا أَدْرَيكَ مَا الْعَقَبَةُ - فَكُ رَقَبَةٍ أَوْ أَطْعَمُ فِي يَوْمٍ ذِي لے نکالا اس میں سے پانی اور چارہ اس کا ۔ ۲ بارش کسی باغ میں گل و لالہ اگاتی ہے تو کسی شورہ زمین میں کانٹے اگاتی ہے۔