حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 85
حقائق الفرقان ۸۵ الْفَتْقُ الشَّقُّ فَتَقَهُ: شَقَّهُ، وَالْخَصْبُ وَالرَّزْقُ ضِدُّة - سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ پس ٹھیک ترجمہ آیت کا یہ ہوا ۔ کیا وہ نہیں دیکھتے ( نہیں سوچتے ) کہ اوپر کی سطح ( بادل ) اور زمین بند ہوتے ہیں ( یعنی خشک سالی واقع ہوتی ہے ) پھر ہم انہیں کھول دیتے ہیں ( یعنی مینہ برستا ہے ) اور ہر جاندار چیز کو پانی سے بناتے ہیں یعنی آسمان سے مینہ برستا۔ زمین سے نباتات نکلتے ہیں سمان ہوتا ہے ارزانی ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص سماوات پر جو سماء کی جمع ہے اعتراض کرے تو اسے ایوب ۳۸ باب ۳۷ پڑھنا چاہیے۔ جہاں لکھا ہے۔ ”کون اپنی دانش سے بادلوں کو گن سکتا ہے عربی اور عبری زبانیں دونوں قریب قریب ہیں ۔ - یہی محاورہ کتب مقدسہ میں موجود ہے۔ دیکھو پیدائش کے باب ۱۱، ۱۲۔ آسمان کی کھڑکیاں کھل ۔ گئیں۔ چالیس دن اور رات پانی کی جھڑی لگی رہی ۔ ۔ پیدائش ۸ باب ۲۔ آسمان کی کھڑکیاں بند ہوئیں اور آسمان سے مینہ تھم گیا۔ اول - سلاطین ۸ باب ۳۵۔ پھر جب آسمان بند ہو جائیں گے اور بارش نہ ہو۔ حجی اباب ۱۰۔ آسمان بند ہے۔ اوس نہیں گرتی ۔ ۲ تاریخ ۶ باب ۲۶۔ اگر آسمان بند ہو جاویں اور نہ برسیں ۔ ۲ تاریخ کے باب ۱۳ ۔ جو میں آسمان کو بند کروں کہ بارش نہ ہو۔ لوقا ۴ باب ۲۵ ۔ ساڑھے تین برس آسمان بند رہا ۔ زمین حاصل دینے سے باز آئی ۔ اور میں نے خشک سالی کو طلب کیا ۔ ( فصل الخطاب المقدمہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۳۹ ، ۱۴۰) أَوَ لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا - کافر اس بات کا یقین نہیں کرتے یا یہ معنے ۔ کیا بار بار نظارہ نہیں کیا۔ رتقا - بند۔ فَفَتَقْنَهُمَا وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْع ( الطارق : ۱۲، ۱۳) میں اس کی لے اور قسم ہے برسات والے آسمان کی ( کیونکہ زمین سے پانی جا کر واپس آتا ہے ) اور زمین کی قسم جو بہت پھٹ جاتی ہے ( بسبب جھاڑ اور روئید گیوں اور دوسرے صدمات کے ) ۔