حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 78 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 78

حقائق الفرقان ۷۸ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ ہم سورۃ الانبیاء کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس کے نام سے جو سب خوبیوں کا مالک تمام عیبوں سے پاک ہے بے خدمت بھی سب کچھ دیتا ہے خدمت کا بھی خوب صلہ عنایت فرماتا ہے۔ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ - ترجمہ ۔ انسانوں کا حساب قریب ہو گیا ہے مگر لوگ غفلت میں پڑے ہوئے منہ پھیر رہے ہیں۔ تفسیر ۔ نزدیک آیا ہے واسطے لوگوں کے حساب اُن کا اور وہ پیچ غفلت کے منہ پھیر رہے ہیں ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۳۴ حاشیه ) انبیاء پر کیا اعتراض ہوتے ہیں ان کے ساتھ لوگ کیا سلوک کرتے ہیں ۔ انبیاء کی موافقت و مخالفت کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ انبیاء کے آنے کی کسی وقت اور کیا ضرورت ہوتی ہے ان باتوں کا ذکر اس پارہ میں ہے۔ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ ۔ پس انبیاء اس وقت آتے ہیں جب لوگ ایک عام غفلت میں پڑے ہوتے ہیں۔ ایک بھائی خدا کو مانتا ہے اور دوسرا نہیں ۔ بایں ہمہ آپس میں محبت سے رہتے سہتے ہیں غیرت دینی باہم نہیں رہتی ۔ جیسا کہ آجکل یوروپ و امریکہ کی حالت ہے۔ اس کا کچھ نہ کچھ رنگ ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی توجہ بعثت کی طرف ہوتی ہے۔ ہزار برس کے بعد ایسا وقت ضرور آتا ہے۔ سو برس کے بعد بھی بلکہ بعض کے نزدیک اس سے کم ۔ طب کے معاملہ میں بھی اس کا نظارہ دیکھا ہے۔ تو رات میں طاعون کا ذکر ہے کہ ستر ہزار آدمی مارے گئے مگر اب تو ہفتہ وار اتنی تعداد کے قریب پہونچ جاتے ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ / جون ۱۹۱۰ صفحه ۱۷۱)