حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 73

حقائق الفرقان ۷۳ معنی ابن عباس نے لئے ہیں ۔ پس سوال کا موقع ہی نہ رہا۔ سُورَةُ طَهُ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۶۳) وَ مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ أَعْلَى ( طه : ۱۲۵) اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا۔ پس تحقیق اس کے لئے گزران تنگ ہوگی اور ہم قیامت کے دن اسے اندھا اٹھائیں گے۔ اصل وجہ افلاس کی تو یہ ہے مگر افسوس ہے کہ اس سے غافل ہیں اور اور بھی دور ہٹتے جاتے ہیں اور بائیں ہمہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو تنزل سے نکالیں جب قرآن کریم اور ذکر اللہ سے دوری بڑھے گی تو اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ضنک معیشت ہوگا۔ پس میں ان لیکچراروں اور ریفارمروں کے ساتھ اسباب افلاس میں متفق نہیں ۔ ہائی ایجوکیشن کا نہ ہونا وجہ افلاس ہوگا۔ ہو لیکن اصل باعث اعراض عن ذکر اللہ ہی ہے۔ (الحکم جلد ۸ نمبر ۹ مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) ۱۲۷ - قَالَ كَذلِكَ اَتَتْكَ ايْتُنَا فَنَسِيتَهَا ۚ وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسى - ترجمہ ۔ اللہ فرمائے گا ایسا ہی ہے۔ ہماری آیتیں جب تیرے پاس آئی تھیں تو تُو نے ان کو بھلا دیا اور چھوڑ دیا تھا اسی طرح آج ہم نے تجھے بھلا دیا۔ تفسیر - تنسی - ترک کیا گیا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ صفحه ۱۷۰) ۱۳۰ - وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَ أَجَلٌ مُّسَمًّى - ترجمہ ۔ اگر تیرے پروردگار کی پیشگوئی نہ ہو چکی ہوتی اور وقت مقرر نہ ہوتا تو عذاب الہی آہی جاتا ۔ تفسیر وَ لَوْلا كَلِمَةٌ - عذاب کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ چنانچہ مشرکان عرب کے ے میں فرمایا ۔ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمُ (الانفال: (الانفال: ۳۴) پھر فرما یا کسی آن يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ (النمل: ۷۳) اور فرمایا لَكُمْ مِيْعَادُ يَوْمٍ (سبا: ۳۱) جس سے ظاہر ہے کہ عذاب نبی کریم کی ہجرت کے بعداً رت کے بعد ایک سال آئے گا ۔ یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۲۱ میں اس - ۲۱ میں اس کے متعلق ا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے جب بھی ان کو عذاب نہ دے گا۔ ے قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آلگا ہو۔ سے تمہارے لئے ایک سال کا وعدہ ہے۔