حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 72
حقائق الفرقان ۷۲ سُورَةُ طَهُ تفسير - مَعِيشَةً ضَنكًا مخالفین رسول رفتہ رفتہ تنگ دست ہو جاتے ہیں۔ ایک عیسائی کا اعتراض۔ دو ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ جون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۰) جو قرآن سے منہ پھیرے۔ اس کی معیشت تنگ ہو گی ۔ یہ باطل ہے۔ کروڑوں قرآن کو نہیں مانتے اور ان کی معیشت تنگ نہیں اور متبعانِ قرآن تنگ ہیں اور لڑائیوں میں دکھی ہوئے کے جواب میں فرمایا :۔ بھلا کتب مقدسہ میں نہیں لکھا۔ ہاں شریر کا چراغ بجھایا جائے گا ۱۸ باب ۵۔ ایوب ۔ تنگ حالی اس کے پاس مستعد رہے گی۔ ۱۸ باب ۱۲۔ ایوب۔ وہ ویران شہروں میں بسے گا ۱۵ باب ۲۸۔ایوب پر جانتے ہو۔ بہت شریر خوش ہیں۔ نہیں بات یہ ہے۔ شریروں کی خوشی کرنی تھوڑے دن کی ہے اور ریا کاروں کی شادمانی لمحے کی ۲۰ باب ۵ ۔ ایوب ۔ پس جو لوگ قرآن کو نہیں مانتے ان پر معیشت بے شک تنگ ہے۔ ان کا چراغ گل ہو گا ۔ معیشت ، خنک ، تنگ حالی ان کے پاس مستعد رہے گی۔ وہ ویران شہروں میں بسیں گے ۔ ان کی شادمانی لمحے کی ہے ۔ قرآن بھی کہتا ہے ۔ مَتَاعُ الدُّنْيَا قليل (النساء: ۷۸) پونچی دنیا کی تھوڑی ہے۔ دوسرے جملہ اعتراض کا جواب ۔ وہ دکھ جو خدا کیلئے ہے ایک بخشش ہے۔ فلپی ا باب ۲۹۔ وہ دکھ جو خدا کے لئے ہے خوشی کا باعث ہے۔ اعمال ۵ باب ۴۱۔ کیونکہ باپ کے ہاتھ سے ملتا ہے۔ یوحنا ۱۸ باب ۱۱ ۔ یہ پیالہ ہے۔ نہ سمندر ۔ زبور ۷۵ باب ۸ ۔ اس میں غوطہ لگا کر مرتے نہیں اور آرام سے نا امید نہیں ۔ یسعیاہ ۴۳ باب ۲-۲ قرنتی ۴ باب ۸ ۔ یہ ایسی بات ہے جیسی لوقا کہتے ہیں۔ تمہارے سر کے بال بھی نہ ہلیں اور یہ بھی کہ وے قتل کریں گے۔ لوقا ۲۱ باب ۱۶ - ۱۸ اور متی ۲۴ باب ۹ ۔ ایک اور حقیقی جواب بخاری میں لکھا ہے۔ ضنک کے معنی شقاوت اور بدبختی کے ہیں ۔ اور یہی