حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 70
حقائق الفرقان تفسیر۔ شیطان۔ ابلیس کا مظہر ہے۔ مُلْكِ لا يَبْلی ۔ ہمیشہ کی سلطنت ۔ سُورَةُ طَهُ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ صفحه ۱۶۹) ۱۲۲ - فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَواتُهُمَا وَ طَفِقَا يَخْصِفْنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَعَطَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى - ترجمہ ۔ پھر ( دونوں نے ) اس جھاڑ میں سے کھا لیا تو شرم گاہیں دونوں کی خود کو دیکھنے لگیں اور لگے اپنے اوپر ڈھانپنے جنت کے پتے اور آدم نے نافرمانی کی اپنے رب کی تو اس کا گزران تنگ ہو گیا۔ تفسیر - فَبَدَتْ لَهُمَا سَواتُهُمَا ۔ ان پر اپنی کمزوریاں ظاہر ہو گئیں۔ بعض باتوں میں عقل وقیاس سے کام لینا ایک قسم کی جرات ہے۔ جو میں ناپسند کرتا ہوں ۔ اس لئے اس کی حقیقت حوالہ بخدا ہے۔ اتنا ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو چند اوامر - چند نواہی دیتا ہے۔ خبیث روح ان کے خلاف منصوبے کرتی ہے۔ ان کو تکلیف پہنچاتی ہے۔ ان کے ساتھیوں کے عیش کو مکدر کرتی ہے۔ گو آ خرمنہ کی کھاتی ہے۔ خود نبی کریم کی زندگی کے واقعات سے یہ قصہ کھل سکتا ہے۔ آپ اپنی بی بی خدیجہ کے ساتھ آرام سے بسر کر رہے تھے۔ دعوی نبوت کے بعد ان کے خلاف جوش اٹھا۔ جس سے اپنی کمزوریوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اور پھر اس کمزوری کے دور کرنے کی کوئی نہ کوئی سچائی کا پتہ اپنے پر لیتے ہیں۔ پتہ جلد خشک ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے اپنی طرف سے دلائل دیتے ہیں جو کمزوری ہوتی ہے۔ آخر خدا سے مدد پا کر مظفر و منصور ہوتے ہیں۔ وَ عَطَى آدم ۔ مسلمانوں میں دو مذہب ہیں۔ ایک شیعہ ان کا عقیدہ ہے کہ امام جو ہوتا ہے۔ وہ تمام قسم کے گناہوں سے۔ صغیرہ، کبیرہ، عمد، خطاء، سہو سے معصوم ہوتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی عجیب اعتقاد ہے کہ تقیہ خواہ بت کے آگے سجدہ کر لے یا کلمۃ الکفر کہہ لے۔ یہ جائز ہے۔ خوارج کے نزدیک ایک طرف اتقاء کا یہ اہتمام ہے کہ عورت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ گناہ کفر ہے۔ مگر دوسری طرف خلفاء راشدین میں سے دو کو انہوں نے ہی قتل کیا۔ ستنی سے دو نے ہی