حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 55 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 55

حقائق الفرقان ۵۵ سُورَةُ طَهُ تھا چنانچہ گویا یہیں اشارہ فرما دیا اور یہ سورۃ مکی ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر جیسے پاک بندے کے ساتھ راتوں رات گئے۔ فِي الْبَحْرِ - بحر عربی زبان میں کھلے میدان کو بھی کہتے ہیں كَلَّمْتُهُ بَحْرًا وَ سِحْرًا ۔ فلاں آدمی سے میں نے بات کھل کے کی ۔ سمندر کو بحر بھی اس لئے کہتے ہیں۔ دومحاورے حدیثوں کے اس وقت یاد آ گئے ہیں۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے جب رسول کریم کی کچھ مخالفت کی تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ اس بحر کے لوگ اتفاق کر چکے تھے کہ اس کو بادشاہ بنادیں ۔ آپ کے آنے سے یہ منصوبہ پورا نہیں ہوا۔ اس لئے یہ حسد کرتا ہے۔ مکہ و مدینہ میں جو وسیع میدان تھا۔ اس کو بحر کہتے ہیں ۔ يبسا - موسی جس رستہ سے گئے تھے وہ خشک تھا۔ چنانچہ فرمایا کہ تم اس رستے جاؤ جو سمندر میں خشک پڑا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۸) ۷۹ - ۸۰ ۔ فَأَتْبَعَهُمُ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِ فَغَشِيَهُمُ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمُ - وَ أَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَ مَا هَدَى - - ترجمہ ۔ پھر اُن کا پیچھا کیا فرعون نے مع اپنے لشکر کے تو ان کو ڈھانپ لیا دریا نے جیسا ڈھانپ لیا ان کو ۔ اور تباہ و گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو اور رہنمائی نہ کی۔ تفسیر - فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِ - نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بھی لوگ پکڑنے کے لئے دوڑے اور پکڑ کر لانے والے کیلئے ۳۳ اونٹ انعام مقرر کئے ۔ مَا غَشِيَهُمْ ۔ جیسے فرعونیوں پر بلا آئی۔ ویسے ہی مشرکان مکہ پر بھی آئی۔ أَضَلَّ فِرْعَوْنَ ۔ وہاں فرعون تھا اور یہاں ابو جہل ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۸) ے بعض روایات کے مطابق ایک سو اونٹ انعام مقرر کیا گیا تھا۔ دیکھیں سیرۃ ابن ھشام باب هجرة النبي صلى الله عليه وسلم الى المدينة (مرتب)۔