حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 53

حقائق الفرقان ۵۳ سُورَةُ طَهُ انه لكَبِيرُكُم - یہ چالاک لوگوں کا شیوہ ہے کہ وہ ناکام رہ کر وقت پر ندامت مٹانے کیلئے جھٹ کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔ مباحثات میں بھی اب ایسے لوگوں کے وارث دیکھے جاتے ہیں ۔ کوئی نہ کوئی احتمال نکال کر دلیل کو باطل قرار دے لیتے ہیں میرے نزدیک تو إِذَا جَاءَ الْإِحْتَمَالِ بَطَلَ الْإِسْتِدْلَالُ کے یہ معنے ہیں کہ جو شخص بات بات میں احتمال نکالنے کا عادی ہے۔ اس کے لئے کوئی دلیل مفید نہیں ہو سکتی ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۷) ۷۳- قَالُوا لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا - ترجمہ ۔ وہ بولے ہم ہرگز ہرگز تجھ کو اس پر ترجیح نہ دیں گے جو صاف علم ہمارے پاس آیا اور نہ اس اللہ پر جس نے ہم کو پیدا کیا تو تو کر لے جو تجھے کرنا ہے۔ تو تو حکم چلا سکتا ہے اس دنیا ہی کی زندگی میں ۔ تفسیر ۔ فَاقْضِ مَا انْتَ قَاضٍ ۔ مومن اور کافر کا فرق اس آیت سے ظاہر ہے کہ وہ حالت کفر میں تو کہتے ں۔ ہیں ابن لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَلِمِينَ (الشعراء:۴۲) گویا وہ اپنی تمام کرشمہ نمائی وسحر سازی کا مول چند پیسے سمجھتے ہیں۔ اور فرعون کے تقرب کو بڑا اعلیٰ درجہ کا انعام سمجھتے ہیں یا اب حالت ایمان میں یہ حال ہے کہ کسی جرات سے کہتے ہیں فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هُذِهِ الْحَيُوةَ الدنيا - ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ صفحه ۱۶۷) ۷۵ - إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى ۔ ترجمہ ۔ کچھ شک نہیں جو حاضر ہوگا اپنے رب کے حضور جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والا منکر تو اس کے لئے جہنم ہی ہے جس میں نہ مرنا ہی ہے نہ جینا۔ تفسیر - مُجْرِمًا قطع تعلق کرنے والے۔ (ضمیم اخبار بدر قادریان جلد نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ مئی ۱۹۱۰ صفحه ۱۶۷) پلید روحوں میں بھی عذاب دینے کیلئے ایک حس پیدا کی جاتی ہے۔ مگر نہ وہ مردوں میں داخل اے بھلا ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا جب ہم غالب ہوں گے۔