حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 48
حقائق الفرقان لد ٧ سُورَةُ طَهُ لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا ۔ یہ فرعون کی چالا کی تھی ۔ الزام بغاوت لگا کر اپنی تمام قوم کو حضرت موسیٰ کے خلاف بھڑکا دیا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ امتی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۷) بدظنی انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اس بات کی تمیز کہ جوظن میں نے کیا ہے بد ہے یا نیک یہ بھی خدا کے فضل پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ مومن کو ایک فراست بخشتا ہے۔ فرعون کو بدظنی نے ہلاک کیا۔اس نے بدظنی کی کہ حضرت موسی حکومت کے خواہشمند ہیں۔ حالانکہ مجھے جیسا ایک اور ایک دو پر یقین ہے۔ ایسا ہی اس بات پر کہ انبیاء اولیاء خلفاء ائمہ کے دل میں قطعا ریاست ، دولت ، حکومت کا خیال نہیں ہوتا۔ اور یہ بات چونکہ مجھ پرگزری ہے۔ اس لئے اسے خوب سمجھتا ہوں ۔ حضرت موسیٰ کو جناب الہی میں سے ارشاد ہوتا ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ تم کو رسالت دی گئی ۔ فرعون کی طرف جاؤ۔ مگر آپ ہیں کہ عرض کیے جاتے ۔ ہیں کہ میرا بھائی ہارون افصَحُ مِنّى لِسَانًا (القصص : ۳۵) اگر قلب کے کسی گوشہ میں ذرا بھی نبی بننے کی خواہش ہوتی تو ایسا کبھی نہ فرماتے ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۱۱ ء صفحه (۴) مَكَانًا سوی ۔ وہ مکان میرے اور آپ کیلئے مساوات کا رنگ رکھتا ہو۔ یعنی میری وجاہت اور آپ کی غربت کا فرق نہ رہے۔ یہ بات فرعون کی فراخ حوصلگی پر دال ہے۔ ایک طرف اپنی قوم کو بھڑکا تا ہے اور دوسری طرف یہ منصفانہ بات ، مسلمانوں کو مباحثات میں ایسی باتوں کا خیال چاہیے مگر افسوس کہ وہ بہت تنگ دل ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو بھی مسجد میں گر جا کر لینے کی اجازت دی تھی ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ صفحه ۱۶۷) مَكَانًا سوى - ایسا مکان جو فریقین کا یکساں امیر و غریب کے لئے ہو مباحثہ کے لئے ایسا ہی مکان چاہیے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۷) ۸ ۹ماه ۶۰ ۶۱ - قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَ أَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى - فَتَوَلَّى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ آتَى - ترجمہ ۔ موسیٰ نے کہا جشن کا روز تمہارے ساتھ ٹھہرایا گیا اور لوگ جمع کئے جائیں دن چڑھے ۔ تو پھر گیا فرعون اور جمع کیں اس نے اپنی تدبیریں پھر آ موجود ہوا ۔ لے وہ مجھ سے زیادہ صاف زبان ہے۔