حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 43
حقائق الفرقان لدله سُورَةُ طه نفس کو قتل کر دیا پھر ہم نے تجھ کو غم سے نجات دی اور تجھے طرح طرح سے آزماتے رہے ( ممتاز بنانے کے لئے) تو تو چند سال اہلِ مدین میں ٹھہرا رہا پھر تو ایک ا اندازے پر پہنچا اے موسیٰ ! تفسير وفَتَتكَ فتُونا ۔ تجھے ہمیشہ مصفا بناتے رہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۷) اور ہم نے تیرا خوب امتحان لیا۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۰۴) ۴۵- فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنَا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى - ترجمہ ۔ تو تم دونوں اس سے نرم بات کہنا تا کہ وہ سمجھ جائے یا خوف زدہ ہو جائے۔ تفسير قولا لینا۔ کیونکہ اس کو بادشاہ بھی میں نے ہی بنایا ہے۔ پس اس کے شاہی مزاج اور درباری قوانین کا لحاظ رکھو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۷) قولا لينا - حفظ مراتب ضروری ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۷ ) اللہ تعالیٰ نے قولاً لینا ارشاد کر کے حضرت حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو ہدایت فرمائی کہ فرعون کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرنا یہ امر قابلِ غور ہے۔ جن لوگوں کو خدا کی بار یک در بار یک مصلحتوں نے امیر بنایا ہوتا ہے ان کے مراتب کا لحاظ کرنا چاہیے ۔ بعض نادان کہتے ہیں ۔ ہم کیوں کسی کی خوشامد کریں مگر جب خدا نے کسی کو خوشامد کے لئے بنایا تو بندے کی کیا ہستی کہ اس کی مخالفت کرے۔ ہمارے ضلع میں ایک صوفی چشتی تھے۔ حضرت شمس الدین کسی نے ان کی نسبت کہا کہ فقیر نہیں ۔ میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ وہاں ڈپٹی یا تحصیلدار آتے ہیں تو مرغ پکتا ہے اور ہمارے لئے دال ۔ میں نے اسے کہا کہ خدا تعالیٰ آپ کو گھر میں کیا دیتا ہے۔ کہا۔ روکھی سوکھی روٹی ۔ اور ان تحصیلداروں اور ڈ پیٹیوں کو کیا دیتا ہے۔ کہا۔ گوشت و پلاؤ ۔ تب میں نے اسے کہا کہ پھر حضرت خواجہ پر اعتراض کرنے سے پہلے خدا پر اعتراض کرو گے کہ اس جناب میں لحاظ داری ہے۔ ایک دفعہ ایک بڑا معز ز قوم و عہدے کے اعتبار سے یہاں آیا اور اس نے مجھے کہا کہ یہاں بڑی لحاظ داریاں چلتی ہیں۔ میں نے کہا۔ کیونکر ۔ کہا۔ دیکھئے کل مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے