حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 485

حقائق الفرقان لد ٢٧ سُورَةُ سَبَا السموم الحجر : ۲۸،۲۷) ۔ پس اللہ تعالیٰ کی کسی ایسی مخلوق کا جسے ہم دیکھ نہ سکتے ہوں محض اس بنا پر انکار کرنا کہ وہ اگر ہے تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتی ۔ دانشمندی سے بعید ہے۔ خود جن کے لفظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ وہ ایک انسانی نظروں سے پوشیدہ مخلوق ہے اس مادہ سے جس قدر الفاظ نکلے ہیں ان میں یہی معنے پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً جنت ۔ جنة جو انسان کو چھپا کر تلوار کے حملے سے محفوظ رکھتی ہے۔ جنین وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں پوشیدہ ہو۔ جنون ۔ عقل کو چھپانے والا مرض ۔ جن کا اطلاق حدیث میں سانپ ، کالے کتے لکھی، چیونٹی ، وبائی جرمز ، بجلی ، کبوتر باز ، زقوم، بائیں ہاتھ سے کھانیوالا بال پرا گندہ رکھنے والا ، غراب ، ناک یا کان کٹا ، شیر بر سردار وغیرہ پر بولا گیا ہے۔ جن لغت میں بڑے آدمیوں پر بھی بولا گیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے جنّ الناس معظمهم شاید بڑے پیسے والے ساہوکاروں کو بھی اسی لئے مہا جن کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی یہ لفظ غریب لوگوں کے مقابل ایک گروہ پر بولا گیا ہے۔ پہلے فرمایا: وَ قَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ تَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا - (سبا: ۳۴) اس سے آگے فرمایا: بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُونَ ۔ (سبا: ۴۲) سورة احقاف رکوع ۴ میں ایک گروہ کا ذکر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے آئے ۔ اور پھر اپنی قوم کی طرف واپس پھرے اور کہا ۔ يُقَومَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَبًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِى إِلَى الْحَقِّ وَ إِلَى طَرِيقِ مُسْتَقِيمٍ ۔ (الاحقاف: ۳۱) اسی طرح جن میں جس گروہ کا ذکر ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ نصیبین کے یہودی تھے۔ سوره ( تشحید الا ذبان جلدے نمبر ۵ ۔ ماہ مئی ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۲۹، ۲۳۰) اے بے شک ہم نے آدمی کو بنا یا کھنکھناتی ہوئی مٹی سے جس پر کئی برس گزرے ہوں سیاہ کیچڑ بو دار سے۔ اور جن کو انسان سے پہلے ہم نے پیدا کیا ٹو کی آگ سے ۔ ۲۔ اور کمزور بولیں گے متکبروں سے نہیں بلکہ تمہارے رات دن کے منصوبوں نے ( ہمیں روکا ) جب کہ تم ہم کو حکم کرتے تھے اس بات کا کہ ہم اللہ کو نہ مانیں اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرائیں ۔ سے ہاں وہ پوجا کرتے تھے جنوں اور بھوتوں کی اور اکثر انہیں کا اعتقاد رکھتے تھے۔ ے اے ہماری قوم ! ہم نے ایک کتاب سنی جو نازل ہوئی ہے موسیٰ کے بعد تصدیق کرتی ہے سب اچھی باتوں کی جو سامنے پیش ہوئی ہیں اور ایک سچی بات کی رہ نمائی کرتی ہے سیدھی راہ کی طرف۔