حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 480 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 480

حقائق الفرقان لد ٠٧ سُورَةُ سَبَا خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی ۔ اور تیراندازوں کے جو باقی رہے۔ قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے (یسعیا ۲۱ باب (۱۶، ۱۷) میں نے زیادہ تفصیل پیشین گوئیوں میں کی ہے۔ غور کرو۔ جنگ بدر کیسی آیت اور کیسا معجزہ ہے ۔ قیدار عرب میں کون ہیں؟ کیا قریش ہی نہیں؟ کیا بدر میں ان کے بہادر لوگ گھٹ نہ گئے؟ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۶۹٬۶۸ ) تو کہ تم کو وعدہ ہے ایک دن کا۔ نہ دیر کرو گے اس سے ایک گھڑی ۔ نہ شتابی ۔ نبوت کا دن ایک برس کا ہوتا ہے۔ جیسے دن جو ساتھ صبح اور شام کے نبوت میں لکھا ہو یا شام یا صبح سے شروع کرے تو چوبیس گھنٹے کا شمار ہوتا ہے ورنہ ایک سال کا۔ (دیکھو اندرونہ بائیبل صفحہ ۳۱۳) پادری صاحبان غور کرو۔ قرآن نے کیسا معجزہ دکھلایا کہ ان کے زوال کا وقت بھی بتا دیا اور یہ وعدہ جنگ بدر میں پورا ہوا۔ کیونکہ بدر کی لڑائی ٹھیک ایک برس بعد ہجرت کے واقع ہوئی یعنی ۱۵ جولائی ۶۲۲ ء کو آنحضرت مکے سے ہجرت کر کے مدینے تشریف لے گئے اور ۶۲۳ء میں قریش سے جنگ بدر ہوئی اور اس بدر کی لڑائی کو قرآن نے آیت یعنی بڑا نشان ٹھہرایا جو کامیابی اسلام کا گو یا آغاز ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ أُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأَى الْعَيْنِ وَ اللهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ - (آل عمران : ۱۴) وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۔ (آل عمران : ۱۲۴) ا۔ ابھی ہو چکا ہے تم کو ایک نمونہ دوفوجوں میں جو بھڑی تھیں ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے اللہ کی راہ میں اور دوسری منکر ہے یہ ان کو دیکھتی ہے اپنے دو برابر صریح آنکھوں سے اور اللہ زور دیتا ہے اپنی مدد کا جس کو چاہے اسی میں خبر دار ہو جاویں جن کو آنکھ ہے۔ ۲۔ اور تمہاری مدد کر چکا ہے اللہ بدر کی لڑائی میں اور تم بے مقدور تھے سو ڈرتے رہو اللہ سے شاید تم احسان مانو۔