حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 476 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 476

حقائق الفرقان ٤٧٦ سُورَةُ سَبَا ایسا تخت پر بیٹھا جس کا آسمان سے تعلق نہ تھا۔ زمینی آدمی تھا ۔ عصا سلطنت کھا یا گیا۔ ( تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ) لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ ۔ ہمیں معلوم ہوتا کہ سلطنت کا انجام یہ ہونے والا ہے۔ تو کیوں خواہ مخواہ ان کا کام کرتے رہتے ۔ پہاڑی لوگوں نے یہ کہا۔ حضرت سلیمان کے بیٹے کے صحبتی لوگ بہت خراب تھے۔ امراء بیرون جات نے ایڈریس پیش کیا ۔ اس کو جواب سکھلایا کہ میں تم پر لوہے کی لاٹھ سے حکومت کروں گا۔ وہ بگڑ گئے اور بادشاہ اور بنالیا۔ میں نے دیکھا ہے ریاستوں کی باگ کسی ادنیٰ آدمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جو چاہے رئیس سے کرا لیتے ہیں ۔ اگر نہ مانے تو رئیس کی جان پر بن جائے ۔ کیونکہ اس کے رشتہ دار تمام خاندان رئیس میں مختلف طور سے پھیلے ہوتے ہیں ۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۷۶،۴۷۵) ۱۷،۱۶ - لَقَدْ كَانَ لِسَبَا فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتُنِ عَنْ يَمِينِ وَ شِمَالِ كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةً طَيِّبَةً وَ رَبُّ غَفُورٌ فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنَهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَى أَكُلِ خَمْطٍ وَ اثْلٍ وَ شَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ - ترجمہ ۔ قوم سبا کے لئے ان کے مکانات میں ایک نشانی تھی ۔ دو باغ تھے سیدھے اور بائیں ۔ حکم ہو گیا کہ کھاؤ اپنے رب کا رزق اور اس کا شکر کرو۔ یہ پاکیزہ شہر ہے اور رب غفور ہے۔ تو انہوں نے ہمارے حکم سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر بھیج دیا بڑے زور کا سیلاب اور ان کو دو باغوں کے بدلے ایسے دو باغ دیئے جن کے پھل بدمزہ پیلو اور جھاؤ کے اور کچھ بیری کے تھے۔ تفسیر ۔ كَانَ لِسَبا - سبا ایک شخص کا نام تھا۔ اسکے دس بیٹے تھے۔ اس کے نام پر ایک شہر تھا۔ یمن میں ۔ سَيْلَ الْعَرِمِ ۔ طغیانی جو بڑی تیز ہو۔ اتل ۔ پنجابی ( پھرواں ) ۔ عرب میں ایک مثل ہے تَفَرَّقَتْ بِأَيْدِی سَبَا یعنی فلاں ایسا تباہ ہوا۔ جیسے سبا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ را کتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۷)