حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 475
حقائق الفرقان ۴۷۵ سُورَةُ سَبَا انسان قومی قدرت کے استعمال سے یا اللہ تعالیٰ کے محض فیض سے ان اشیاء سے حاصل کرتا ہے یاد دلا کر اور اپنا علت العلل ہونا ان کے ذہن نشین کرا کر اُس کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ اور یہ عجیب در طریقہ انسانی قومی پر تاثیر کرنے کا ہے۔ جو حقیقہ قرآن کریم ہی سے مخصوص ہے اور اس بیان قوانین قدرت سے تمام قرآن لبریز ہے۔ ایسا ہی اس آیت میں بھی اس عادت جاریہ کے موافق حضرت سلیمان پر انعام و فضل کا ذکر کیا ہے اس سے آگے والی آیت یہ ہے۔ تَجْرِي بِأَمْرِةِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بركنا فيها (الانبياء: ۸۲) ۔ چلتے تھے وہ جہاز اس کے (سلیمان ) حکم سے اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت دی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہاز حضرت سلیمان کے حکم سے بلاد افریقہ یا ہند سے ہو کر ارض شام کو آتے تھے۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۷ ۱۵ تا ۱۵۹ ) ۱۵ - فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ - ترجمہ ۔ پھر جب ہم نے سلیمان پر موت جاری کی (یعنی سلیمان علیہ السلام مر گئے ) تو ان کی موت سے واقف نہ کیا قوم نار کو مگر زمین کے ایک کیڑے نے جو سلیمان کے عصائے (سلطنت ) کو کھاتا رہا تو جب وہ گر پڑا تو جنات اور شریروں نے جان لیا۔ اُمرا نے معلوم کر لیا۔ اگر وہ غیب جانتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے۔ تفسیر دَابَّةُ الْأَرْضِ - عَلَى كُرْسِيهِ جَسَدًا (ص:۳۵) سے اسکے معنے حل ہوتے ہیں یعنی سلیمان کے تخت پر جو بیٹھا وہ جسد ہی جسد تھا۔ روحانیت سے بے بہرہ تھا۔ پس سلیمان کی موت پر آپ کے بیٹے نے دلالت کی ۔ نالائق ہوا۔ سب برکات ( حکومت و نبوت ) جاتی رہیں۔ الجن ۔ اس ملک کے شریر لوگ ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۶-۲۰۷) إلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ ۔ سلطنت کا قائم مقام ہوشیار ہو تو شاہ کی موت معلوم نہیں ہوتی ۔ مگر ایک بیٹا