حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 474

حقائق الفرقان ۴۷۴ سُورَةُ سَبَا کے دو بیڑے بنائے تھے۔ ایک خلیج فارس اور بحر ہند میں ۔ دوسرا بحر روم میں چلتا تھا۔ اس امر کا ثبوت معتبر یہودی تاریخ سے سن لیجئے سلاطین اول ۹ باب ۲۶ پھر سلیمان بادشاہ نے عصیوں جبر میں جو ایلوت کے نزدیک ہے دریائے قلزم کے کنارے پر جو ادوم کی سرزمین میں ہے۔ جہازوں کے بحر بنائے اور حیرام نے اس بحر میں اپنے چاکر ملاح جو سمندر کے حال سے آگاہ تھے سلیمان کے چاکروں کے ساتھ کر کے بھجوائے اور وے او غیر کو گئے۔ (اور دیکھو اخبار الایام ۲ باب ۲-۱۶) اخبار الایام دوم ۲ باب ۱۶ ۔ بادشاہ کے جہاز حیرام کے نوکروں کے ساتھ ترسیس کو جاتے اور وہاں سے ان پر تین برس میں ایک بارسونا اور روپا اور ہاتھی دانت اور بندر اور مورا سکے لئے بھیجتے تھے۔ چونکہ زمانہ سابق میں جہاز کا چلنا صرف ہوا کی موافقت اور سازگاری ہی پر موقوف تھا اور حضرت سلیمان کے جہاز بتوفیق الہی ہوا کی سازگاری سے حسب المرام چلتے اور کام دیتے تھے۔ بنابراں باری تعالیٰ اس جگہ امتنانا ریح یعنی ہوا کا ذکر کرتا ہے کہ ہم نے ہوا اس کے کام میں لگا دی اور اس لئے کہ ہوا ہی محرک اور منشائے جہاز رانی کی متمم اعظم تھی۔ ہوا ہی کے ذکر پر اکتفا کیا اور کنایہ جہاز رانی مراد رکھی۔ اس آیت کے آگے فرمایا ہے۔ غُدُوهَا شَهْرُ وَ رَوَاحُهَا شَهْرُ (سبا: ۱۳) اس میں ان جہازوں کے سفر اور طے مسافت کا بیان ہے کہ صبح و شام میں اتنی مسافت طے کر جاتے تھے جو اس زمانے میں بلحاظ سفر بڑی کے ایک مہینے کی راہ ہوتی تھی بیشک اس کے ابتدائی زمانے میں سفر بڑی کی دشواریوں اور صعوبتوں اور راہوں کے محفوظ و مامون نہ ہونے پر اگر نظر کی جاوے تو جہاز رانی کے ذریعے سے خشکی کی کوسوں کی راہ چند گھنٹوں میں طے ہو جاتی تھی خدا کے فضل اور قدرت کی ایک عظیم الشان آیت ( نشانی ) تھی اور بنی اسرائیل کے لئے خصوصاً جنہیں اوّل اوّل خدا نے یہ فن عطا کیا۔ خدا کے احسانات کے تذکر کی بڑی بھاری نشانی تھی ۔ قرآن مجید کا یہ عجیب اور مخصوص طرز ہے کہ اس میں باری تعالیٰ انسان کو وہ منافع اور فوائد جو