حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 466
حقائق الفرقان ۴۶۶ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ واسطے اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ پہلے ہر ایک بات کو اچھی طرح سے سوچ لو اور بڑا سوچ سمجھ کر نکاح کا معاملہ کیا کرو۔ اور اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں تبدیلی اور اصلاح کرے گا۔ اور جو شخص اللہ کی اطاعت کر کے رسول اللہ صلعم کا کہا مانتا ہے اصل میں وہی اچھی طرح سے بامراد اور کامیاب ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۵ مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۶) اللہ تعالیٰ تقویٰ کی ہدایت فرماتا ہے اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے کہ پکی باتیں کہو۔ انسان کی زبان بھی ایک عجیب چیز ہے جو گا ہے مومن اور گا ہے کافر بنا دیتی ہے۔ معتبر بھی بنا دیتی ہے اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے اس لئے حکم ہوتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو۔ خصوصا نکاحوں کے معاملہ میں ۔ اس معاملہ میں پوری سوچ بچار اور استخاروں سے کام لو اور پھر مضبوطی سے اسے عمل میں لاؤ۔ جب تم پوری کوشش کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جائیں گے۔ تمہاری غلطی کو جناب الہی معاف کر دیں گے کیونکہ جب تقوی ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے اور اگر نافرمانی ہو تو وہ معاف کر دیتا ہے۔ ان معاملات نکاح میں عجیب در عجیب کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور دھو کہ دیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ ہی کا فضل ہو تو کچھ آرام ملتا ہے۔ ورنہ چالاکی سے کام کیا ہو اور دنیا میں بہشت نہ ہو۔ پھر فرمایا ہے۔ بہت لوگ پاس ہونے کیلئے تڑپتے ہیں۔ وہ یاد رکھیں کہ اصل بات تو یہ ہے کہ جو اللہ اور رسول کا مطیع ہوتا ہے وہ ہی حقیقی با مراد ہوتا اور یہی حقیقی پاس ہے۔ ( بدر جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۵ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ۶ نیز الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۵ مورخه ۲۶ فروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۴) یہ ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ ایسے تعلقات اور عقد کے وقت یہ نصیحت فرماتا ہے۔ تقوی اللہ اختیار کرو اور پکی باتیں کہو۔ پکی باتیں حاصل ہوتی ہیں کتاب اللہ کو غور کے ساتھ پڑھنے سے سنن اور تعامل کے مطالعہ سے۔ احادیث صحیحہ کے یاد رکھنے سے۔ یہ باتیں ہیں علوم حقہ کے حاصل کرنے کی۔ مجھے اس موقع پر یہ بھی کہنا ہے کہ بعض لوگ تم میں سے اپنی غلط فہمی سے احادیث کو طالمود کہتے ہیں یہ ان کی سخت غلطی ہے۔ انہوں نے ہرگز ہرگز امام کے مطلب کو نہیں سمجھا ۔ کیا ان کو