حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 462 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 462

حقائق الفرقان عورت کے ساتھ مساوات کا حصہ ہے؟ ۴۶۲ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ سوم ۔ عورت کیلئے یہ تکالیف باسباب پنر جنم خیال کی جاویں تو بقیہ عدم مساوات کا عذر وسیع کیوں نہ کیا جاوے۔ چہارم ۔ یہ آیت جس کا حوالہ سوال میں دیا گیا یہ ہے - يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَ بَنْتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الاحزاب : (۶۰) ترجمہ : اے نبی ! اپنی بیویوں اور ۔ اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ کہ بڑی چادریں اوڑھ لیا کریں۔ اور اس کے ماقبل یوں ہے وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا (الاحزاب : ۵۹) اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ پہچانی جائیں گی ۔ اور ستائی نہ جائیں گی ۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو خواہ مخواہ بغیر ان کے اکتساب کے ایذا دیتے ہیں وہ بہتان اور بڑی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اور اس کے بعد یہ آیت ہے ۔ لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنْفِقُونَ وَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ وَ الْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قلِيلًا (الاحزاب : ۶۱ ) یعنی اگر یہ منافق اور دل کے بیمار اور مدینہ میں بری خبریں اڑانے والے باز نہیں آئیں گے تو ہم تجھے ان کی سزا دہی پر آمادہ کریں گے۔ پھر یہ مدینہ میں تیرے قرب و جوار میں رہنے نہیں پائیں گے ۔ ان آیات کا مطلب اور قصہ یہ ہے کہ مدینہ کے بعض بد معاش مسلمان عورتوں کو چھیڑتے تھے اور عورتوں کو دکھ دے کر ان کے متعلق لوگوں کو تکلیف پہنچاتے تھے۔ چونکہ بظاہر مومن ہونے کے مدعی تھے اس لئے جب پکڑے جاتے تو عذر کر دیتے کہ اس کو ہم نے پہچانا نہیں ۔ اس واسطے یہ نشان لگایا گیا۔ غور کرو۔ یہ کلمہ قرآن کریم کا أَنْ تُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْن اور ماقبل کی آیت کس قدر صفائی سے بتاتی ہے کہ بڑی چادر ایک نشان تھا اور ان سے واضح ہوتا ہے کہ ایک شرارت کی بندش اسلام نے کی ہے۔ اس لئے اس نشان کے بعد فرمایا کہ اب بھی اگر شر پر شرارت سے باز نہ آئے تو ہم ان کو خوفناک سزا دیں