حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 460
حقائق الفرقان ۴۶۰ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ پڑتی ہیں اور بجائے نفع کے نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ جتنی جتنی کوئی چیز نازک اور عظیم الشان ہوتی ہے اتنا ہی اسے نقصان کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔ دیکھو اسلام بڑا نازک اور عظیم الشان مذہب ہے اس لئے اسے نقصان کا اندیشہ بھی زیادہ ہے۔ خود قوم کی حالت اور نمونے کا اس پر اثر ہوتا ہے۔ افراد کی حالت سے قیاس کر لیا جاتا ہے۔ مسلمان کیسے ذلیل، مفلس اور محتاج ہیں ۔ پھر بائیں کیسے کیسے منصوبے کرتے ہیں ۔ ان میں حد درجے کی کمزوریاں اور سستیاں اور کاہلی موجود ہے۔ فاسق فاجر اور بدمعاش اچکے ان میں بھرے پڑے ہیں ۔ جیل ان سے بھرے ہوئے ہیں ۔ پھر بھی جھوٹا فخر، تکبر، بڑائی اور شیخی ایسی کی جاتی ہے کہ گویا تیس مارخان یہی ہیں ۔ ذراسی بات میں وحشی بن جاتے ہیں اور جھوٹے فخر کرتے ہیں کہ تمام دنیا نے جو کچھ سیکھا ہے اسلام سے سیکھا ہے۔ اچھا اگر دنیا نے اسلام سے سیکھا ہے تو تم نے اسلام سے کیا سیکھا اور وں نے سیکھ لیا تو تم نے کیوں نہ سیکھا ؟ غرض ان بداخلاقیوں اور افراد کے رذائل اور رڈی حالت سے خود اسلام پر اعتراض اور دھبہ آتا ہے اور دشمنوں کے حملے ہوتے ہیں اور اور قوموں کو ایسے برے نمونے سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔اسی واسطے مسلمان کو حکم ہے کہ آپ کے واسطے تسلیم مانگے کہ آپ کا دین آپ کے ارادے اور آپ کی تمام آرزوئیں ہر طرح سے محفوظ و مصون رہیں اور کبھی کسی میں کوئی نقص یا کمزوری اور دھبہ نہ آوے۔ آمین ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ مورخه ۲۲ را پریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ ) ارا ۵۹۔ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا - ترجمہ ۔ اور جو لوگ ایذا دیتے ہیں ایماندار مرد اور عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ قصور کیا ہو تو کچھ شک نہیں کہ انہوں نے بوجھ اٹھا یا بہتان اور صریح گناہ کا ۔ تفسیر یعنی مومن مردوں اور عورتوں کو بیجا اور ناحق دکھ دینے والے بہتان اور بھاری گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۸۷)