حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 37 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 37

حقائق الفرقان ۳۷ سُورَةُ طه فَلَمَّا أَتْهَا نُودِيَ مِنْ شَاطِيُّ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبْرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ يَمُوسَى اني أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ - (القصص: ۳۱) ۔۔۔۔ اگر ہم مان لیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ سے آواز سنی مگر یہ تو پھر بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم مکذب کی طرح کہیں آواز دینے والی خود آگ ہی تھی ۔ آگ کا غیر ناطق ۔ غیر متکلم، جڑ ہونا صاف گواہی دیتا ہے کہ وہ کلام آگ کا نہ تھا بلکہ کسی اور کا کلام تھا۔ سنو ! ملہم کو جب البی آواز کان میں پڑے گی تو ضرور ہے کہ اگر وہ مہم کسی موجود مخلوق کے سامنے کھڑا ہے تو اسی چیز یا ملہم کے قلب سے اس کو وہ آواز سنائی دے گی۔ اس میں شبہ ہی کیا ہے؟ مشاہدہ فطرت سے عیاں ہے۔ پر دیکھنے والی آنکھیں بھی ہوں ۔ اگر ہم مان لیں کہ آگ سے وہ آواز سنائی دی۔ پھر بھی وہ آواز آگ کی کیسے ہو سکتی ہے؟ مثلاً ہم دیوار یا کسی جڑھ پدارتھ کے پاس ایسے جنگل میں جہاں کوئی بولنے والا نہ ہو۔ کوئی کلام سنیں ۔ تو کیا ہم کہہ دیں گے کہ دیوار بول رہی ہے۔ یہ یقینی امر ہے کہ جو آگ جناب موسیٰ علیہ السلام نے دیکھی تھی وہ عنصری آگ نہ تھی ۔ بلکہ عالم مثال کی ایک کیفیت تھی اور جناب موسیٰ علیہ السلام کی کشفی آنکھ نے اسی نور الانوار کی زبردست تجلی کو دیکھا۔ حَدِيثُ - شریعت ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۱۳۱ تا ۱۳۵) أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًی ۔ اس آگ پر جو لوگ ہیں ۔ شاید وہ میری راہنمائی کریں۔ جب ہم پرانی تاریخ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی کسی کو مقابلہ کرنا منظور ہوتا۔ تو وہ مہمانی کرتا ہے اور اپنے دوستوں کو مدعو کر کے اپنے خطرے سے آگاہ کرتا ہے۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ پہاڑیوں پر بہت سی آگ جلا دیتے ع میان دو کس جنگ چون آتش است ؟ اے پس جب اس کے پاس آیا برکت والے میدان کے کنارے سے مبارک زمین میں درخت کی طرف سے پکارا گیا کہ اے موسیٰ ! یقیناً میں ہوں اللہ عالموں کا پروردگار ۔ ۲ دو افراد کے درمیان لڑائی اور اختلاف آگ کی مانند ہے۔