حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 449 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 449

حقائق الفرقان ۴۴۹ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ اگر کہو۔ وہاں حقیقی بہن مراد ہے تو کیا دینی بہن سے نکاح جائز ہے۔ پولوس صاحب فرماتے ہیں کیا ہمیں اختیار ہے کہ دینی بہن سے نکاح کر لیں ( قرنتی ۹ باب ۵) ہم کہتے ہیں۔ اسی طرح حقیقی بیٹے کی جو رو سے نکاح منع ہے نہ لے پالک کی جو رو سے۔ مجھے اسوقت مولوی لطف اللہ لکھنوی یاد آ گئے ان سے بھی ایک پادری صاحب نے مجمع عام میں یہی سوال کیا تھا۔ آپ نے کیا خوب جواب دیا۔ وو سارے راستباز خدا کے فرزند ہیں۔ تو یوسف نجار بھی فرزند تھا۔ پھر اس کی جورو سے خدا نے فرزند لیا۔ پس اگر اس کے رسول نے لے پالک کی بی بی مطلقہ سے نکاح کیا۔ تو کیا عیب کیا۔ اگر جماع عیب ہے ۔ تو ایک عضو کی نسبت سارے سمو چے خدا کا رحم میں از راه ۔۔۔۔ چلا جانا اور پھر مجسم بن کر نکل کھڑا ہونا تو شاید اور بھی معیوب ہوگا ۔ زید نے تو طلاق بھی دے ڈالی تھی ۔ یوسف سے تو کسی نے براءت نامہ بھی نہ لیا ہاں شاید الوہیت اور رسالت میں یہی فرق ہوگا کہ اس میں طلاق کی ضرورت نہیں رہتی 66 کتب مقدسہ کے محاورات تمہیں تعجب انگیز معلوم نہیں ہوتے ۔اے میری زوجہ اے میری بہن ۔ تیرا عشق کیا خوب ہے۔ تیری محبت سے سے کتنی زیادہ لذیذ ہے۔ رض ( غزل الغزلات ۴ باب ۱۰ و ۵ باب ۱) حقیقی جواب۔ اصل قصہ یوں ہے کہ زینب ایک بڑے خاندان کی عورت تھی ۔ آنحضرت نے اپنے خادم زید کے لئے اس کے وارثوں کو ناطے کا پیغام دیا ۔ وہ اپنی عظمت اور شرافت شان کے خیال سے اول تو ناراض ہوئے پھر آخر کار راضی ہو گئے ۔ کچھ مدت تو جوں توں کر کے بسر ہوئی ۔ آخر زید نے اس کی تعلی اور طنز و تعریض سے تنگ آکر اس کے چھوڑ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ چونکہ آپ بذات مبارک اس شادی کے انصرام کے متکفل ہوئے تھے۔ اس لئے اس طلاق کے انجام اور اس کے مفاسد پرقومی دستوروں اور اور حالات معاشرت ملکی کے کے لحاظ لحاظ سے سے آپ کے دل کے دل میں میں کھٹکا پیدا پیدا ہوا۔ ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ رخنہ جو کفار اور حیلہ طلب معاندین کو رسماً و عرفا ایسے موقع پر بہت ملامت وطنز کا