حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 448
حقائق الفرقان ママフ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ سے دیکھتی جس کا انجام یہ ہوا کہ زید نے طلاق دے دیا۔ تُخْفِي فِي نَفْسِكَ - دلداری کا ایک پہلو یہ سوجھتا کہ میں نکاح کرلوں ۔ تَخْشَى النَّاس ۔ نبی پر بے جا اعتراض کر کے قابلِ عذاب نہ ہوں ۔ یہ ڈر تھا۔ حضرت موسی کی نسبت بھی ارشاد ہوا کہ لا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى (طه: ۶۹) یہ شکست کا ڈر نہ تھا بلکہ اس کا کہ لوگ مرتد ہو کر ہلاک نہ ہو جاویں۔ زوجنگها ۔ یہ مراد نہیں کہ اللہ ہی نے نکاح پڑھا دیا۔ ظاہر میں کوئی بات نہیں ہوئی باتیں وجوہات کہ نا سے حسب محاورہ قرآنی وسائط کا پتہ ملتا ہے۔ (ب) آپ نے ولیمہ کیا۔ (ج) جب یہ ایک رسم کے مٹانے کیلئے تزویج ہوئی تو پھر نکاح ظاہر میں علی رؤوس الاشهاد کیوں نہ ہوتا۔ (ضمیمه اخبار بدر جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ را کتوبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۵) وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ - لوگوں کے مبتلائے معاصی ہونے کا ڈر تھا کہ نا ہی سے ابتلاء میں نہ آجائیں وہ کہیں گے۔ نبی نے ان کی شادی کی ۔ اب ان کی بن نہیں آتی۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۴) ایک عیسائی کے اعتراض " محمد صاحب نے اپنے لے پالک کی جو رو سے عشق کیا پھر لوگوں سے ڈرے تو ایک آیت اتار لی جواب میں تحریر فرمایا۔ معترض نے عشق کا ثبوت تو کوئی نہ دیا۔ لوگوں سے ڈرنا مقتضائے بشریت ہے۔ حضرت مسیح بقول آپ کے باوجود الوہیت کے لوگوں (یہود) سے ڈرتے رہے۔ اور حاکم کے سامنے حضرت سے کچھ بن نہ پڑا ۔ صُمَّ وَ بُكُمْ سے رہ گئے ۔ بھلا صاحبان جس صبح کو پکڑے گئے اس رات مسیح کی کیا حالت تھی۔ (متی ۲۶ باب ۳۸) اگر لے پالک کی جورو سے شادی منع ہے۔ تو اسکا ثبوت توریت یا انجیل یا شرع محمدی (قرآن) سے یا دلائل عقلیہ سے دیا ہوتا۔ بلکہ میں کہتا ہوں سارے عیسائی لے پالک بیٹے ہیں ( نامہ رومیاں ۸ باب بیٹے ( ۱۵) تو اب کیا وہ باہمی عقد میں بہنوں سے نکاح کرتے ہیں ، توریت میں بھی بہن سے نکاح حرام ہے۔