حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 444
حقائق الفرقان ۴۴۴ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ ٣١- يُنسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضْعَفُ لَهَا الْعَذَابُ ضِعُفَيْنِ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا - ترجمہ ۔ اے نبی کی بی بیو! جو کوئی تم میں سے آئے گی صریح بدکاری کو تو اس کو بڑھ بڑھ کر عذاب دیا جائے گا۔ دہراد ہرا شہر شہرا اور یہ بات اللہ پر بہت آسان ہے۔ تفسیر - بِفَاحِشَةٍ - ناشائستہ حرکت ۔ ( بدر جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ رستمبر ۱۹۰۵ ء صفحه (۶) ۳۲- وَمَنْ يَقْنَتُ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَ اعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا - ترجمہ ۔ اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور بھلے کام کرے گی تو ہم اس کو عطا فرمائیں گے اس کا اجر کئی کئی بار ۔ اور ہم نے تیار کر رکھی ہے اس کے لئے عزت کی روزی ۔ تفسیر وَ اعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا۔ اس میں معرفت کا نکتہ ہے کہ جو بی بی فرماں بردار ہو گی ۔ اسے رزق کریم دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہ کو اس رزق سے بہرہ وافی ملا۔ جس سے ثابت ہوا کہ وہ بہت فرماں بردار تھیں ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ را کتوبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۰۵) ينسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَااَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا - ترجمہ ۔ اے نبی کی بیبیو! تم عام عورتوں کی طرح تو ہو ہی نہیں ۔ جب تم متقی ہو تو ملمع سازی کی باتیں نہ کرو ( دب کر ) نرم آواز سے بات نہ کہا کرو پھر طمع کرنے لگے گا وہ شخص جس کے دل میں کمزوری ۔ ہے ( منافق بے ایمان ) اور دستور کی بات کہہ دیا کرو۔ تفسیر - فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ - حضرت عائشہ کھل کر بات کہہ لیتی تھیں ۔ یہ اس ارشاد کی تعمیل ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۵) لَا تَخْضَعْنَ ۔ دبی زبان سے مت کہو۔ ( بدر جلد نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ رستمبر ۱۹۰۵ ء صفحه (۶)